Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’مدعی سست گواہ چُست‘، جب لاہور کی عدالت کو مقدمے کا ٹرائل روکنا پڑا

عدالت کو بتایا گیا کہ ذاکر علی منشیات کے ایک مقدمے میں جیل چلے گئے ہیں (فوٹو: اے پی پی)
اُردو کی مشہور کہاوت ’مدعی سست گواہ چُست‘ تو آپ نے سُنی ہی ہوگی لیکن اس کی عملی تصویر لاہور کی ایک عدالت میں اُس وقت دیکھنے کو ملی جب ایک مقدمے کی سماعت کے دوران گواہ تو موجود تھا لیکن مدعی منظر سے غائب تھا۔
لاہور کی  اینٹی کرپشن کی عدالت میں بدھ کے روز جعلی رجسٹری بنا کر پلاٹ بیچنے سے متعلق کیس کی سماعت کا آغاز ہوا۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ لاہور کے علاقے الفلاح ٹاون میں شہزاد نامی ایک شخص نے 10 مرلے کا پلاٹ خریدا۔
عدالت میں درج مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق محمد شہزاد نے پلاٹ خریدنے کے بعد اس پر اپنے مکان کی تعمیر شروع کر دی۔
تاہم ابھی تعمیر اپنے ابتدائی مراحل میں ہی تھی کہ ذاکر علی نامی شخص نے دعویٰ کر دیا کہ یہ پلاٹ ان کی ملکیت ہے اور انہوں نے یہ کسی کو بیچا نہ ہی ایسا کوئی کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق کچھ افراد نے جعلی کاغذات اور رجسٹری بنا کر یہ پلاٹ فروخت کر دیا تھا۔
اصل صورت حال سامنے آںے کے بعد ذاکر علی نے نہ صرف محمد شہزاد بلکہ انہیں پلاٹ بیچنے والوں کے خلاف اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ میں مقدمہ درج کروا دیا جو اب لاہور کی اینٹی کرپشن عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
گزشتہ روز بدھ کو جب مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا تو کمرۂ عدالت میں ملزمان، گواہ اور وکیل سب ہی موجود تھے اگر کوئی اگر کوئی نہیں تھا تو ذاکرعلی نہیں تھے۔
جج کے استفسار پر عدالت کو بتایا گیا کہ ذاکر علی منشیات کے ایک مقدمے میں جیل چلے گئے ہیں۔ یوں عدالت کو مقدمے کا ٹرائل روکنا پڑا۔
عدالت نے کارروائی روکتے ہوئے اینٹی کرپشن حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ مدعی ذاکر علی کی گرفتاری سے متعلق رپورٹ اگلی پیشی پر جمع کروائے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ اب پلاٹ کے مقدمے کا ٹرائل کیسے آگے بڑھے گا۔
عدالت نے مزید سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔
اس مقدمے سے منسلک وکیل غلام جیلانی نے  بتایا کہ ’یہ ایک منفرد صورت حال ہے جس کی وجہ سے عدالت کو کارروائی روکنا پڑی۔ اب ٹرائل دوبارہ اس وقت ہی شروع ہو گا جب عدالت معاملے کا تسلی سے جائزہ لے گی۔ یہ صورتحال ہی بھی ہو سکتی ہے کہ مدعی زیر حراست اس مقدمے کا حصہ بن جائے۔‘
یوں اب ذاکر علی کو اس سے آگے ایک مقدمے میں بطور مدعی اور دوسرے میں بطور ملزم پیش ہونا ہو گا تبھی یہ کیس آگے چلے گا۔

 

شیئر: