دھوبی گھاٹ کے علامہ جُگادری اورغالب

’علامہ جُگادری‘ ہمارے پرانے یار ہیں۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکے ہیں اور اب اپنا دھوبی گھاٹ چلاتے ہیں۔ اور ’خود دھوبی و خود دھوبی گھاٹ و خود سگِ دھوبی‘ کا عملی نمونہ بن چکے ہیں۔
گھاگ اتنے ہیں کہ ’دھوب‘ کے کپڑوں ہی سے پہننے والے کا چال چلن بتا دیتے ہیں۔ ابھی پرلے ہی روز کی بات ہے کپڑوں کے ڈھیر میں پڑے ایک زیرِجامہ کو قَمچی کی مدد سے اٹھا کر پہلے بغور معائنہ کیا اور پھر ایک جھٹکے سے اسے دور پھینکتے ہوئے بولے:
’لاحول ولاقوۃ۔ کرخندار کو کہا بھی تھا لونڈے کو کھونٹے سے باندھ دے، مگر نہیں سمجھا۔ جب لونڈا کوئی چاند چڑھائے گا تب میرے پاس بھاگا بھاگا آئےگا‘۔
’کیا ہوگیا علامہ، کیوں گرمی کھا رہے رہو؟‘ ہم نے بھرپور تجسس سے پوچھا۔
’ہونا کیا ہے، چُھٹّا سانڈ بنا گھوم رہا کرخندار کا لونڈا‘
علامہ سفید قمیص کے کالر پر انمٹ سیاہی سے نشان لگاتے ہوئے بولے۔   
ہم نے موضوع کی نزاکت بھانپتے ہوئے بات بدلی: ’اتنی جدید مشینیں آگئی ہیں اور آپ ہیں کہ ابھی تک گھاٹ پر بیٹھے ہیں؟‘
بِھنّا کر بولے: ’ چیزیں تو اور بھی جدید آگئی ہیں تو اب کیا لُگائی کو میکے بھیج دوں؟‘۔
’میرا مطلب تھا کام آسان ہوجائے گا‘۔۔۔ہم نے جھینپتے ہوئے بات بنائی۔
’اچھا! ۔۔۔تو ایسے کہو ناں‘۔۔۔علامہ کا موڈ ایک دم نارمل ہوگیا۔
’برسات کو شراب سے کیا نسبت ہے؟‘۔۔۔ہم نے ماحول کو ادبی رنگ دینے کی کوشش کی۔
سوال سن کر کِھل اُٹھے۔ کپڑوں کی انٹری روک کر قلم کان میں پھنسایا اور پٹاخ سے رجسٹر بند کرتے ہوئے بولے: ’ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں‘ پھر بولے: ’مرزا غالب نے شراب چھوڑ دی تھی۔‘
کب؟۔۔۔ یہ ہمارے لیے انکشاف تھا۔ اس لیے ہم چونکے۔
’عالم بالا سے تار بھیج کر بتایا تھا غالب نے‘۔۔۔ ہمارا یوں پوچھنا انہیں ناگوار گزرا۔
کچھ دیر کونے میں پڑے خانہ ساز صابن کے ڈھیر کو گھورتے رہے پھر عالم کیف میں شعر پڑھا:
’غالب چُھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
پیتا ہوں روزِ ابر و شبِ مہتاب میں
غالب ترک مے نوشی کا واضح اعلان کررہے ہیں اور ساتھ ہی اس بات کا اظہار بھی ہے کہ گاہے کالی گھٹائیں اور چٹکتی چاندنی توبہ شکن ثابت ہوتی ہے۔‘
ہمارے پاک و ہند میں کوّا ’وصال‘ کی علامت ہے۔ یہ جس گھر کی منڈیر پر آبیٹھے اور کائیں کائیں کا شور مچائے تو گھر والے سمجھ جاتے ہیں کہ کوئی مہمان آنے والا ہے
پاک و ہند میں کوّا ’وصال‘ کی علامت ہے۔

چونکہ علامہ وجد میں آ چکے تھے اس لیے ہم نے انہیں ٹوکنا مناسب نہیں سمجھا۔ سلسلہ کلام آپ سے آپ دراز ہوتا گیا۔
’برسات و شراب کے معاملے میں غالب جہاں آ کے رُکے ہیں، فیض احمد فیض نے وہاں سے قدم آگے بڑھایا ہے:
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
یہ فیض ہی کَہہ سکتے تھے کہ رِم رجھم برسات میں پیالہ و صراحی میسر ہو تو اس کے بعد عذاب بھی قبول ہے۔ یہ تو رہی ایک طرف عدم الحمید عدم نے کچھ اور ہی کمال دکھایا ہے۔ سنو کیا کہتا ہے عدم:
بارش شرابِ عرش ہے یہ سوچ کر عدم
بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا
’اُلٹا کر پی گئے۔ مطلب؟‘۔۔۔ ہم نے پوچھا
کہنے لگے لفظ ’بارش‘ کو ذرا اُلٹا پڑھ دیکھو ’شراب‘ خود ہی برسنا شروع ہو جائے گی۔
ہم نے غور کیا تو اس اُلٹ پھیر کو پُرلطف پایا اور اس طرح کی چند مثالیں مزید طلب کیں۔
علامہ سٹول پر بیٹھے جھول رہے تھے بلکہ جھوم رہے تھے، بولے:
 ’لفظ ’حمد‘ اللہ کی بڑائی یا کبریائی کے لیے مخصوص ہے۔ کسی دوسرے کی تعریف و توصیف کو ’حمد‘ نہیں کہا جاسکتا۔ اب ذرا ’حمد ‘ کے حرف ’ح‘ کو اپنی جگہ سے اُٹھا کر آخر میں لگا دو یہ لفظ ’مَدح‘ بن جائے گا۔ اب  کسی کی بھی تعریف کو ’مدح‘ کَہہ سکتے ہو۔
پھر پوچھا لفظ ’قریش‘ سے واقف ہو؟ ۔۔۔ ہم نے موضوع میں بھرپور دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی تو بولے:
’قریش‘ لفظ ’قرش‘ کی تصغیر ہے جو عربی میں ایک بڑی مچھلی کو کہتے ہیں۔ لفظ ’قرش‘ کو اُلٹیں تو یہ ’شرق‘ بن جاتا ہے۔ جس کی انگریزی صورت shark (شارک مچھلی) ہے۔‘
’اور ہاں تم بڑی دھائی دیتے ہو کہ پیٹرول اِتنے روپے لیٹر ہوگیا اُتنے روپے لیٹر ہوگیا۔ تو سنو ’لیٹر‘ مائع چیزوں کی پیمائش کا ایک پیمانہ ہے، جو یونانی لفظ ’لِترا‘ کی تبدیل شدہ صورت ہے اور یہی ’لِترا‘ عربی زبان میں الٹی ترتیب کے ساتھ ’رِطل‘ ہے۔ یہ مخصوص وزن کا ایک پیمانہ مانا گیا ہے، پیمانے کی نسبت سے شراب کے پیالے کو بھی مجازاً رِطل کہا جاتا ہے۔ اسرارالحق مجاز کَہہ گئے ہیں:
یہ جہاں بارگہ رِطل گراں ہے ساقی
اک جہنم مرے سینے میں تپاں ہے ساقی
’یہ تو الفاظ کی بات رہی۔ بعض علامتیں اور شگون بھی ایسے ہیں جو ایک خطے میں کچھ مفہوم رکھتے ہیں اور  دوسرے خطے میں کچھ ‘۔
’مثلاً ‘ ۔۔۔ ہم نے پوچھا۔
’مثلا ً کوّے ہی کو لے لو۔ ہمارے پاک و ہند میں کوّا ’وصال‘ کی علامت ہے۔ یہ جس گھر کی منڈیر پر آبیٹھے اور کائیں کائیں کا شور مچائے تو گھر والے سمجھ جاتے ہیں کہ کوئی مہمان آنے والا ہے۔ پھر اس پیشگی اطلاع ملنے پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ گھر پر ہی رُکنا ہے یا مہمان کی آمد سے قبل کسی اور کے ہاں مہمان بن کر پہنچ جانا ہے۔ کیوں ایسا ہی ہے ناں؟‘
اس اچانک سوال پر ہماری زبان سے  اہل کراچی کے ’جی ہاں ‘ کے برخلاف  اہل پنجاب کا ’ہاں جی‘ نکلا تو انہوں نے مسکرا کر ہماری طرف دیکھا اور گویا ہوئے۔
’کوّا اگر ہمارے یہاں ’وصال‘ کی خبر لاتا ہے تو سرزمین عرب میں یہ ’فراق‘ کی خبر سناتا ہے۔ یعنی ہماری روایت کے بالکل اُلٹ معاملہ ہے۔ کوّے کو عربی میں ’غراب ‘ کہتے ہیں۔ اس لفظ کا مادہ ’غرب‘ ہے۔ اسی سے لفظ غریب ہے۔
یوں تو ’غریب‘ اردو میں محتاج اور نادار کو کہتے ہیں مگر غور کرو تو غریب آدمی اپنے خاندان اور معاشرے میں اجنبی ہو جاتا ہے۔ اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ یہ جو اردو میں غریب الوطن اور غریب الدیار کی ترکیبیں ہیں ان دونوں میں ’اجنبیت‘ کا مفہوم موجود ہے۔ اب لفظ غروب پر غور کرو اس میں ڈوبنے اور چھپنے کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہوجانے کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔‘
ہم نے ہنستے ہوئے اُن سے اجازت چاہی تو کہنے لگے اب جاتے جاتے ایک شعر بھی سن جاؤ:
مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹا
کہ پڑا ہے آج خم میں قدح شراب الٹا

 

شیئر: