کراچی میں اتنی ساری مکھیاں کہاں سے آئیں؟

ایک معمولی سی دکھنے والی مکھی تیزی سے جراثیم پھیلاتی ہے۔ فوٹو: دی انڈیپینڈنٹ
کراچی میں اس وقت ایک غیر معمولی کیفیت ہے۔ جس جانب دیکھو، جہاں نظر پڑے مکھیوں کا ایک سیلاب سا ہے جو شہر میں اُمڈ آیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے جہاں لوگ اس پر مضحکہ خیز میمز بنا رہے ہیں وہیں بہت سے لوگ شہری حکومت کی نا اہلی پر سوال اٹھاتے بھی نظر آ رہے ہیں۔
لیکن آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ ایک دم اتنی کثرت میں مکھیاں کیسے اور کہاں سے آ گئیں؟
ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ بارش اور وہ گند ہے جو شہر کے کچھ علاقوں میں ڈھیر کی صورت پڑا ہے۔ رواں برس برسات اور عیدالاضحیٰ ایک ساتھ آنے کے سبب بارش کا پانی بھی جمع ہو گیا اور قربانی کے جانوروں کی آلائشیں بھی کچھ مقامات پر کافی عرصے تک پڑی رہیں۔ ایسے میں مکھیوں کی افزائش کے لیے ایک گندہ ماحول وجود میں آگیا ہے۔

کراچی میں بارش اور عید کے بعد کیمیکل کا سپرے کیا گیا نہ ہی صفائی، تصویر: اے ایف پی

نتیجتاً، چاہے پھلوں کا ٹھیلا ہو، کھڑا پانی ہو، یا آپ کی گاڑی ہی کیوں نا ہو، اس پر مکھیوں کی تہہ جمی دکھائی دینے لگی ہے جس سے خطرہ ہے کہ کئی وبائی امراض پھیل سکتے ہیں اور بچے، بوڑھے بیمار بھی پڑ سکتے ہیں۔
مزید براں، اس بار کراچی میں بارش اور عید الاضحیٰ  کے بعد اب تک صفائی اور کیمیکل کا سپرے نہیں کیا جا سکا ہے۔
سندھ حکومت میں ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کچھ حرکت تو دکھائی دی ہے لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ تنیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ دو روز قبل مشیر قانون سندھ سینیٹر مرتضیٰ وہاب نے ٹوئٹر پر اعلان کیا تھا کہ آئندہ آنے والے دن میں حکومت کی جانب سے ایک ملاقات رکھی گئی ہے جس میں تمام بلدیاتی اداروں کو بھی دعوت دی گئی ہے تاکہ کراچی میں کچرے کے مسئلے کو حل کیا جاسکے۔

 

مکھیوں کے اس حملے کا ردِ عمل سوشل میڈیا میں بھی خوب دیکھنے کو آیا ہے۔

 

کمال فریدی نے کمال کرتے ہوئے مکھیوں سے ہی کراچی لکھ دیا۔ 
ایک صارف نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس وقت کراچی کو مکھیوں کے سونامی کا سامنا ہے اور کراچی شہر کو اسکے حکمرانوں سے بچانے کی اب اشد ضرورت ہے۔
مزاق اپنی جگہ، لیکن اگر بروقت اس صورتحال سے نہ نمٹا گیا تو شہر میں بہت سی بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہے۔
فرید نامی ایک صارف نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح ایک معمولی سی دکھنے والی مکھی تیزی سے جراثیم پھیلاتی ہے۔

 

شیئر: