اسرائیل کا حزب اللہ کے ٹھکانے پر حملہ، بیروت لرز اُٹھا

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری سے دمشق میں دھماکوں کی آوازیں دور تک سنی گئیں، فائل فوٹو
اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانے پر حملہ کر کے مشرقِ وسطیٰ میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ 
سکائی نیوز کے مطابق حملہ اتوار کو صبح سویرے بیروت کے جنوبی علاقے میں ہوا۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حملے میں شامل دو اسرائیلی ڈرون گرائے ہیں۔
الشرق الاوسط کے مطابق اس سے قبل اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی طیاروں نے دمشق کے قریب ایرانی افواج کے ان ٹھکانوں پر حملہ کیا جو اسرائیل پر حملے کے لیے پر تول رہے تھے۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ’حملے کا ہدف فیلق القدس فورس اور حزب اللہ کے وہ جنگجو تھے جو شامی علاقوں سے اسرائیلی ٹھکانوں پر حملے کی منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں۔‘

 اسرائیلی ذرائع کے مطابق طیاروں نے دمشق کے قریے عقربا میں دہشتگردوں کے کئی ٹھکانوں پر بمباری کی۔

اسرائیلی فوجی ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایرانی افواج اسرائیل پر ڈرون حملے کی تیاری کر رہی تھیں۔‘
شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا کہ شام نے دشمن کے فضائی حملے کو ناکام بنا دیا۔ شام میں انسانی حقوق کے نگران ادارے نے خبر دی ہے کہ اسرائیلی بمباری سے دمشق میں دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ دمشق میں فیلق القدس پر حملہ بڑی تیاری کے ساتھ کیا گیا اور اسرائیلی حکومت کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
نتنیاہو نے ٹوئٹر پر اپنے اکائونٹ میں تحریر کیا کہ ’میں نے ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار رہنے کے احکام جاری کر دیے ہیں۔ ہم ایران اور اس کے ماتحت تنظیموں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔‘

 ’فیلق القدس پر حملہ بڑی تیاری کے ساتھ کیا گیا، کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں‘ نتن یاہو

سکائی نیوز کے مطابق اسرائیلی فوج کے اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے دمشق کے جنوب مشرق کے قریے عقربا میں دہشتگردوں کے کئی ٹھکانوں پر بمباری کی۔ فیلق القدس کے ارکان اور حزب اللہ کے جنگجو حالیہ ایام میں شام سے اسرائیلی ٹھکانوں پر دہشتگردانہ حملوں کے سلسلے میں سرگرم تھے۔
شامی خبر رساں ادارے نے اپنے رپورٹر کے حوالے سے بتایا کہ حملے مسلسل جاری ہیں اور شام کا دفاعی نظام دشمن کو حملوں سے روکنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے ۔

شیئر: