’اسرائیلی حملہ علاقائی استحکام کیلیے خطرہ‘

 لبنان نے بیروت کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی ہے ۔ لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری نے ایک بیان میں کہا کہ یہ لبنان کی خود مختاری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر1701 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی ڈرون گرنے کا واقعہ اس کی کھلی جارحیت کا ثبوت ہے۔ اسرائیل کا نیا جارحانہ حملہ علاقائی استحکام کے لیے خطرے کا باعث ہے ۔یہ حالات کو مزید کشیدہ بنانے کی کوشش بھی ہے ۔
 سعودی خبر رساں ایجنسی اور عرب میڈیا کے مطابق سعد الحریری نے کہا کہ عالمی برادری اور دنیا بھر میں لبنان کے دوست ملکوں پر سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحفظ اور اسرائیلی خلاف ورزیوں کے خطرات سے بچانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لبنانی حکومت اس حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ میں آئندہ اقدامات کے حوالے سے لبنانی صدر اور اسپیکر سے مشاورت جاری رکھوں گا۔ 

لبنان کے صدر نے  اسرا ئیلی حملے کو سلامتی کونسل کی قرارد د کی مسلسل خلاف ورزیوں کی کڑی قرار دیا ۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے لبنانی وزیر اعظم سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے اپیل کی کہ وہ بیروت میں اسرائیلی حملے کے بعد صورتحال کو مزید گمبھیر بنانے سے اجتنا ب برتیں۔
لبنان کی سرکاری ابلاغی قومی ایجنسی نے بتایا کہ سعدالحریری سے اتوار کو پومپیو نے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کیا۔ انہوں نے لبنان اور علاقے کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ سعد الحریری نے رابطے پر پومپیو کا شکریہ ادا کیا اور اطمینان دلایا کہ لبنان ضبط وتحمل کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گا ۔کشیدگی کی شدت کم کرنے کے لیے جو کچھ کرسکتا ہے کیاجائے گا۔
لبنان کے صدر میشال عون نے بیروت کے جنوبی علاقے پر اسرا ئیلی حملے کو سلامتی کونسل کی قرارد د کی مسلسل خلاف ورزیوں کی کڑی قرار دیا ۔ ایک بیان لبنانی صدرنے کہا کہ اسرائیلی حملہ اس کے جارحانہ عزائم اور لبنان نیز علاقے میں امن و ستحکام کو تہ و بالا کرنے کے پروگرام کا ایک اور ثبوت ہے ۔
لبنانی دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہاگیا کہ اقوام متحدہ میں متعین لبنانی سفیر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لبنان کی خود مختاری کی خطرناک خلاف ورزی سے متعلق سلامتی کونسل سے فوری رجوع کریں اور اس خلاف ورزی کی مذمت کا مطالبہ کیا جائے ۔
 واضح رہے کہ اتوار کی صبح بیروت کے جنوبی علاقے میں حزب اللہ نے2اسرائیلی ڈرون گرانے کا دعوی کیا تھا۔

شیئر: