Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فرانس کا نیٹو سے گرین لینڈ میں مشق کرنے کا مطالبہ، ’حصہ لینے کے لیے تیار ہیں‘

فرانس نے نیٹو سے گرین لینڈ میں ایک مشق کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ یورپ دھونس یا دباؤ میں نہیں آئے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فرانس نیٹو سے گرین لینڈ میں مشق کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور اس میں شریک ہونے کے لیے تیار ہے۔
روئٹرز کے مطابق منگل کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا کہ ’فرانس اور یورپ طاقتور کے قانون کو خاموشی سے قبول نہیں کریں گے۔ ایسا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یورپ کی حیثیت ان کے ماتحت جیسی ہو جائے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ یورپ اپنی سرحدی خودمختاری اور قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑا رہے گا۔
’ہم دھونس سے زیادہ احترام کو ترجیح دیتے ہیں اور ہم ظلم و جبر کے بجائے قانون کی حکمرانی کو مقدم سمجھتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’واشنگٹن کی نئی مصنوعات پر مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیرف کا اطلاق بنیادی طور پر ناقابل قبول ہے۔ یہ بات اُس وقت اور بھی زیادہ قابلِ اعتراض ہو جاتی ہے جب انہیں علاقائی خودمختاری کے خلاف دباؤ کے طور پر استعمال کیا جائے۔‘
فرانسیسی صدر کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر یورپ امریکہ کو گرین لینڈ پر مالکانہ حق حاصل نہیں کرنے دے گا تو وہ بھاری ٹیرف عائد کر دیں گے۔
اگرچہ دیگر یورپی رہنماؤں نے تنازع بڑھنے سے روکنے کے لیے معتدل انداز اختیار کیا ہے تاہم ایمانوئل میکخواں نے کھل کر تنقید کی۔

صدر ٹرمپ نے ایمانوئل میکخواں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں اس کی شرابوں اور شیمپینز پر 200 فیصد ٹیرف لگاؤں گا‘ (فوٹو: روئٹرز)

امریکی صدر کا یہ ردعمل اس خبر کے بعد سامنے آیا جس میں بتایا گیا تھا کہ فرانس کے صدر ٹرمپ کے غزہ کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت کو مسترد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں گرین لینڈ کے حوالے سے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کی جانب سے موصول ہونے والے نجی پیغام کو بھی شیئر کیا۔
صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’میں اس کی شرابوں اور شیمپینز پر 200 فیصد ٹیرف لگاؤں گا۔ اور وہ شمولیت اختیار کر لے گا۔ لیکن اس کو شامل ہونے کی ضرورت نہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے میکخواں کا ایک نجی پیغام پوسٹ کیا، جہاں فرانسیسی صدر نے ٹرمپ کو بتایا کہ دونوں رہنما ایران اور شام کے مسائل پر متفق ہیں لیکن انہیں بتایا کہ وہ ’سمجھ نہیں پا‘ رہے کہ صدر ٹرمپ ’گرین لینڈ پر کیا کر رہے ہیں؟‘
پیغام میں فرانسیسی صدر نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر صدر ٹرمپ اور جی7 ملکوں کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی پیشکش کی، اور ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ یوکرینی، ڈنمارک، شامی اور روسی رہنماؤں کو بھی مدعو کر سکتے ہیں۔

 

شیئر: