فلسطین برائے فروخت نہیں ،حنان عشراوی

138ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کئے ہوئے ہیں۔
تنظیم آزادی فلسطین مجلس عامہ کی رکن حنان عشراوی نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی عوام اپنی سرزمین اور منصفانہ کاز کے سلسلے میں کسی طرح کی کوئی سودے بازی نہیں کریں گے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں اپنے وطن کا کسی بھی قیمت پر سودا نہیں کریں گے، فلسطین برائے فروخت نہیں ۔ 
روسی خبر رساں ادارے آر ٹی کے مطابق عشراوی نے یہ جواب فرانس میں جی سیون سربراہ کانفرنس میں شرکت کے موقع پر صدر ٹرمپ کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فلسطینی سودے بازی کرنا چاہ رہے ہیں ۔ انہیں دی جانیوالی مدد کا اچھا خا صا روک لیا گیا ہے اور وہ روکی گئی رقم واپس لینا چاہتے ہیں ۔
عشراوی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان فلسطینی عوام کے حقوق اور کاز کی توہین ہے ۔وہ ابھی تک اس وہم میں مبتلا ہیں کہ امریکہ مدد کے بل پر فلسطینی کاز کا سودا کر سکتا ہے ۔یہ سوچ فلسطینی کاز کے مزاج ، امن کے تقاضوں اور بین الاقوامی قوانین و قرار دادوں سے خطرناک حد تک ناواقفیت کا کھلا ثبوت ہے ۔

صدر ٹرمپ  نے کہا تھا کہ فلسطینی سودے بازی کرنا چاہ رہے ہیں ۔

حنان عشراوی نے فلسطینی علاقوں یا فلسطینی اتھارٹی کا ذکر امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے اپنی ویب سائٹ سے حذف کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دفتر خارجہ نے یہ اقدام ہمارے مسئلے کو اسرائیل کا داخلی مسئلہ بنانے کےلئے کیا ہے ۔امریکی دفتر خارجہ یہ عندیہ دینا چاہتا ہے کہ ہمیں نہ آزادی کا حق ہے ، نہ خود مختاری کا ہمیں اختیار ہے ۔ یہ ہماری تاریخ اور ہماری ثقافت اور ہمارے وجود کی نفی ہے ۔
عشراوی نے یہ بھی کہا ایسا لگتا ہے ٹرمپ انتظامیہ نتنیاہو اور ان کی انتہا پسندحکومت کو مسلسل سہولتیں فراہم کر رہی ہے ۔وہ اس حوالے سے یہ حقیقت بھول گئی ہے کہ 138ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کئے ہوئے ہیں۔امریکن انتظامیہ اقوام متحدہ میں ہماری قانونی حیثیت کو نظر انداز کر رہی ہے ۔ وہ یہ فراموش کر رہی ہے کہ فلسطینی ریاست اقوام متحدہ میں مبصر کی حیثیت رکھتی ہے ۔
عشراوی کا کہنا تھا کہ امریکی دفتر خارجہ کا یہ اشتعال انگیز قدم غفلت یا بھول چوک کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکن انتظامیہ کے خطرناک سیاسی موقف کا پتہ دیتا ہے ۔
امریکن انتظامیہ کاہدف اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو حتمی شکل دینا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی عمل کی شروعات کا دارومدار بین الاقوامی قانون اور اسکی قرار دادوں پر ہے ۔ غیر جانبدار ثالثوں کی موجودگی بھی سیاسی عمل کےلئے ناگزیر ہے ۔

شیئر: