’پہلے پابندیاں ہٹائیں پھر ملیں گے‘

ایرانی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کی پیشکش کو معاشی پابندیاں ختم کرنے سے مشروط کیا۔ فوٹو: اے ایف پی
ایرانی صدر حسن روحانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ایران کے خلاف لگائی گئی معاشی پابندیاں ہٹائی جائیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کے لیے تیار ہیں جو اگلے چند ہفتوں میں ممکن ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر کی اس پیشکش پر صدر روحانی نے منگل کو سرکاری ٹی پر لائیو خطاب کرتے ہوئے امریکہ سے مذاکرات کو معاشی پابندیوں سے مشروط کیا۔
صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ معاشی پابندیاں ختم کرنے کا ’پہلا قدم اٹھائیں، اس قدم کے بغیر یہ تالا نہیں کھولا جائے گا۔‘ 
ایرانی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایرانی قوم کے خلاف لگائی گئی تمام غیر قانونی، غیر منصفانہ اور غلط معاشی پابندیاں واپس لیں۔‘  
انہوں نے مزید کہا کہ ’مثبت تبدیلی کی کنجی واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے‘ کیونکہ ایٹم بم بنانے کے خدشات ایران پہلے ہی ختم کر چکا ہے۔  
صدر روحانی نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ’ہم ایٹم بم بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے حس روحانی سے ملاقات کی پیشکش کا اعلان فرانسیسی صدر کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کیا تھا۔

امریکی صدر کا خیال تھا کہ ان کی پیشکش پر صدر روحانی ان سے ملاقات پر تیار ہو جائیں گے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

 ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو فرانس میں منعقدہ جی سیون کے اجلاس کے موقع پرصحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ 2015 کے نیوکلیئر معاہدے پر اختلافات کو ختم کرنے کے لیے ایران کے صدر سے ’مناسب حالات‘ میں ملاقات کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ آئندہ ہفتوں میں ان کی اور صدر روحانی کے درمیان ملاقات کے بارے میں سوچنا درست ہے۔
’میرے ایران کے حوالے سے اچھے تاثرات ہیں، میرا خیال ہے کہ وہ (صدر روحانی) بھی ملاقات کرنا اور اس صورتحال سے نکلنا چاہیں گے۔‘
واضح رہے کہ گذشتہ برس امریکہ نے سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیاتھا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار ہوگئے۔
جی سیون اجلاس کے میزبان فرانس کے صدر ایمنوئل میکرون نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ روحانی نے انہیں کہا ہے کہ وہ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ ایمنوئل میکرون نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ آئندہ چند ہفتوں میں امریکا اور ایران کے صدور کے درمیان ملاقات کی راہ ہموار ہوگی۔
یورپین لیڈرز نے ٹرمپ کی 2015 کی نیوکلیئر ڈیل سے علیحدگی اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے خاتمے کے لیے خاصی کوششیں کی ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے جی سیون ممالک کے سربراہی اجلاس کے دوران فرانس کا اچانک دورہ کیا تھا۔ (فوٹو:اے ایف پی)

اس حوالے سے ایمنوئل میکرون نے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوششیں کی ہیں جن سے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لایا جاسکے۔
یاد رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نےجی سیون ممالک کے سربراہی اجلاس کے دوران فرانس کا اچانک دورہ کیا تھا۔
فرانس کے صدر نے کہا کہ ’میں یہ امید کرتا ہوں کہ ان مذاکرات کی بنیاد پر آئندہ چند ہفتوں میں صدر ٹرمپ اور صدر روحانی کے درمیان ملاقات ہوسکتی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ اگر وہ ملتے ہیں تو کسی معاہدے پر اتفاق ہوسکتا ہے۔‘

شیئر: