پنجاب: خواتین کی ہراسیت میں اضافہ؟

حالیہ عرصے میں خواتین کے تحفظ کے لیے کیا گیا بڑا کام پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن کا 2014 میں قیام ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
صدف کی شادی کو محض دو سال ہی ہوئے ہیں اور گھریلو تشدد کا شکار بننے کے بعد اب اپنا مقدمہ عدالت میں لڑ رہی ہیں۔ بظاہر وہ پرعزم ہیں اور اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتی ہیں۔
اپنی کہانی سناتے ہوئے صدف کا کہنا تھا کہ ’یہ کتنی نا انصافی ہے کہ ابھی آپ نے زندگی جینے کی شروعات ہی کی ہو تو پتا چلے آپ تو قید خانے میں آ گئے ہیں۔ اور صرف قید ہی نہیں بلکہ بامشقت قید۔ میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طریقے سے اپنی شادی کو کامیاب بناؤں لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ جب مجھے لگا کہ بات مار کٹائی تک آ پہنچی ہے اور اب میری جان کو خطرہ ہے تو پھر میں نے اس کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
صدف کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے درالحکومت لاہور سے ہے اور انہوں نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے لیکن اب ان کا شمار بھی ان بدقسمت خواتین میں ہوتا ہے جو گھریلو تشدد کا شکار ہوئیں۔
وہ بتاتی ہیں ’شوہر نے تو جیسے پہلے دن سے ہی سوچ رکھا تھا کہ مجھے غلام بنانا ہے۔ اپنے طور پر بہت کوشش کی کہ ان سمیت ان کے سارے خاندان کی مرضی کے مطابق چیزوں کو لے کر چلوں لیکن ایک سال اسی تگ و دو میں گزارنے کے بعد احساس ہوا کہ مسئلہ مجھ سے ہے نہ کہ میرے متعلق امور سے۔ اور اس چیز کا کوئی حل نہیں جب آپ نفرت کا شکار ہو جائیں۔ شوہر نے جب ہاتھ اٹھانا شروع کیا تو یہ ایک نئی آزمائش تھی اور مجھے نہیں پتا تھا اس سے کیسے نمٹنا ہے۔ بالآخر مجھے زبان کھولنا پڑی اور پھر مجھ پر اس گھر کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے۔‘

جب شوہر کے مارنے پر زبان کھولی تو گھر کے دروازے صدف پر بند ہو گئے۔ فوٹو: اے ایف پی

صدف نے بتایا کہ اب انہوں نے نہ صرف خلع کے لیے مقدمہ دائر کر رکھا ہے بلکہ وہ خود پر کیے گئے تشدد کا بھی حساب لیں گی۔ ’خوشی ہے کہ میرے ماں باپ اور بھائی میرے ساتھ ہیں اور مجھے امید ہے کہ میں انصاف حاصل کر لوں گی۔‘ 
یہ کہانی صدف کی ہی نہیں بلکہ ادھر ادھر نظر دوڑائیں تو بیسیوں کہانیاں اس طرح کی یا اس سے ملتی جلتی آپ کو مل جائیں گی۔ حال ہی میں گلوکار اور فنکار محسن عباس پر بھی ان کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے گھریلو تشدد اور ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں اور ان کا مقدمہ بھی عدالت میں زیر سماعت ہے جبکہ محسن عباس نے اپنی عبوری ضمانت کروا رکھی ہے۔ 

پنجاب میں ہراسگی سے متعلق قانون 

خواتین پر تشدد اور ہراساں کیے جانے کے اقدامات کی روک تھام کے لیے پنجاب میں قانون سازی کی گئی ہے۔
حالیہ عرصے میں خواتین کے تحفظ کے لیے پہلا بڑا کام پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن (پی سی ایس ڈبلیو) کا قیام ہے، جو 2014 میں ایک ایکٹ کے ذریعے عمل میں لایا گیا۔ اس طاقتور کمیشن کا کام ایک ایسے ادارے کا ہے جو صوبہ بھر میں خواتین کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو نہ صرف مانیٹر کر سکتا ہے، بلکہ اس کو اختیار ہے کہ کسی بھی قسم کے مواد کے حصول کے لیے کسی بھی ادارے سے معلومات طلب کر لے۔ اس کے علاوہ نئی قانون سازی اور ریسرچ کے بعد تجاویز بھی اسی ادارے کے ذمہ ہیں۔

گزشتہ آٹھ مہینے میں 936 خواتین نے ہراسگی اورجائیداد کے تنازعات سے متعلق مقدمات درج کروائے۔ فوٹو: اے ایف پی

اسی کمیشن کے تحت ایک ہیلپ لائن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جس میں کوئی بھی خاتون شکایت درج کروا سکتی ہے اور اس کے بعد یہ کمیشن اس شکایت سے متعلق تمام اداروں کو متحرک کرتا ہے جب تک کہ شکایت کا ازالہ نہ ہو جائے۔
اسی سلسلے میں دوسرا قدم اکتوبر 2017 میں پنجاب وومن پروٹیکشن اتھارٹی کا قیام عمل میں لا کر اٹھایا گیا۔ اس اتھارٹی کے زیر انتظام وومن پروٹیکشن سینٹرز کا قیام تھا جو 24 گھنٹے خواتین کی مدد کے لیے کھلے رہیں گے۔ اب تک ملتان میں پہلا وومن پروٹیکشن سنٹر بن چکا ہے۔ 

خواتین کے خلاف ہراسگی کے واقعات

عورتوں پر گھریلو تشدد اور ان کی حالت  پر نظر رکھنے کے لیے بنائے گئے کمیشن پی سی ایس ڈبلیو کے تحت چلنے والی ہیلپ لائن سے دستیاب ڈیٹا کے مطابق سال 2019 کے آٹھویں مہینے یعنی اگست تک 29 ہزار 166 کالز موصول ہوئیں۔ جبکہ ان میں سے عمومی مدد کےعلاوہ 936 خواتین نے باقاعدہ مقدمات درج کروائے جن میں زیادہ تر ہراساں کیے جانے اور جائیداد کے تنازعات سے متعلق ہیں۔
ان 936 میں سے کمیشن نے 329 کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا ہے جبکہ 660 مقدمے ابھی زیر التوا ہیں۔ کُل موصول ہونے والی کالز میں سے 3،133 کا تعلق ہراسگی سے ہے جبکہ 2030 کالز گھریلو تشدد سے متعلق تھیں۔ کمیشن کے مطابق 5801 کالز کا تعلق جائیداد کے معاملات سے ہے۔

خواتین کے تحفظ کے لیے قائم کمیشن کے تحت ملتان کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی انسداد تشدد سنٹرز قائم کیے جائیں گے۔ فوٹو: اے ایف پی

کمیشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ہراسگی اور گھریلو تشدد سے متعلق شکایات میں اس سال دس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم چیئرپرسن وومن پروٹیکشن اتھارٹی پنجاب فاطمہ چدھڑ کے مطابق یہ اضافہ اس لیے بھی نظر آیا ہے کہ لوگوں میں شعور آ رہا ہے اور خواتین اب آگے بڑھ کر بول رہی ہیں، وہ چھپا نہیں رہیں۔
’اس سے پہلے عورت اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے شکایت بھی نہیں کرتی تھی۔ ابھی یہ پورا نظام بن لینے دیں جب انسداد تشدد سنٹرز ہر جگہ قائم ہو جائیں گے۔ ابھی تو صرف ملتان میں بنا ہے اگلے مرحلے میں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور بہاولپور میں بن رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جب ایسی خواتین کی مدد کے لیے چوبیس گھنٹے ہیلپ لائن اور ادارے موجود ہوں گے اور ’عورتوں کو پتا چلے گا کہ ان کی داد رسی ہو رہی ہے تو ہوسکتا ہے آپ کو ان اعدادو شمار میں اور زیادہ اضافہ نظر آئے کیونکہ ابھی تو ان گنت ایسے واقعات ہیں جو رپورٹ نہیں ہوتے۔ ‘

شیئر: