یمن میں سرکاری اہداف کو نشانہ نہیں بنایا، اتحاد کو بچایا: امارات

سلامتی کونسل نے کہا تھا کہ ایسے سیاسی حل کی حمایت کرتے ہیں جو یمن کے باشندوں کے تمام خدشات کو دور کرے۔ فوٹو: اے ایف پی
یمن کے صدر نے متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا ہے کہ اس نے جنوبی یمن میں حکومتی فورسز پر حملہ کیا ہے۔
جمعرات کو یمن کے صدر نے کہا ’متحدہ عرب امارات کے جنگی جہازوں کی جانب سے اچانک حملے میں یمنی فوج اور سویلین کو نشانہ بنایا گیا۔‘
 ابو ظہبی کے وزارت خارجہ کے مطابق عدن کے ہوائی اڈے پر مسلح ملیشیا کی جانب سے اتحادی افواج کو ہدف بنانے پر اس نے بدھ اور جمعرات کو اپنے دفاع میں محدود حملے کیے۔
عرب نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے کہا ’شدت پسند تنظیموں کی جانب سے عدن کے ہوائی اڈے پر اتحادی افواج پر حملہ ہوا، جس میں دو اتحادی فوجی زخمی ہوئے، متحدہ عرب امارات کی فوج نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔‘

یمن میں حوثی باغیوں اور حکومتی افواج کے درمیان لڑائی 2014 سے جاری ہے (فوٹو:اے ایف پی)

یہ واقعہ ایسے وقت ہوا جب یمنی حکومت کے افواج اور جنوبی حصے کے علیحدگی پسندوں میں اس مہینے کے آغاز پر لڑائی ہوئی جب علیحدگی پسندوں کی جانب سے عدن پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
یمنی صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومتی فورسز جنوبی عدن کی حمایت یافتہ افواج سے یمن کے عارضی دارالحکومت عدن کو واپس لے لیں گے۔
2014 میں حوثی باغیوں نے حکومت کو صنعا سے بے دخل کردیا تھا جس کے بعد سے عدن کو عارضی طور پر یمن کا دارالحکومت بنا دیا گیا تھا۔
یمن کی جنوبی عبوری کونسل اور حکومت عرب اتحاد کے ساتھ متحد ہیں۔ عرب اتحاد میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ حکومت اور عرب اتحاد مل کر حوثیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ لیکن اگست کے شروع میں جنوبی عبوری کونسل اور یمنی صدر کے درمیان تنارعات بڑھتے دکھائی دیے جس کی وجہ سے عدن میں صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
یمن میں بڑھتے تشدد پر سلامتی کونسل نے کہا تھا کہ ایسے سیاسی حل کی حمایت کرتے ہیں جو یمن کے باشندوں کے تمام خدشات کو دور کرے۔

اس لڑائی میں یمن کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ (فوٹو:اے ایف پی)

سلامتی کونسل کے 15 اراکین نے یمن میں حالیہ بڑھتے ہوئے تشدد اور ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں سعودی عرب میں سویلین انفراسٹرکچر پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حوثی ملیشیا فوری طور پر ان حملوں کو روکیں۔
میڈساں سوں فغونتییغ یا طبیبان بے سرحد نے کہا ہے کہ بدھ کو 51 زخمی افراد لائے گئے جس میں سے 10 ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہلاک ہوئے۔
طبیبان بے سرحد کے بیان کے مطابق ’ لڑائی پورا دن جاری رہی، جمعرات کی صبح تھوڑا سا سکون ہوا لیکن ہمیں لگتا ہے کہ لڑائی کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے۔‘

شیئر: