کراچی: ’میں نے کبھی اس قسم کا ٹریفک جام نہیں دیکھا‘

بارش کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ کورنگی کا تھا۔ فوٹو اے ایف پی
کراچی میں مون سون کی بارشیں اس بار ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ بارانِ رحمت اس وقت زحمت بن جاتی ہے جب شہر میں بلدیاتی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو۔
ایسا ہی کچھ پیر کے روز کراچی میں دیکھنے کو آیا جب سر شام برسات شروع ہونے سے جگہ جگہ پانی کھڑا ہوگیا۔   شام کے وقت شروع ہونے والی بارش کے باعث کراچی کے علاقے کورنگی میں شہری آدھی رات تک ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔
اس صورتحال میں سب سے ذیادہ متاثر ہونے والا علاقہ کورنگی کا تھا جہاں دفتروں سے گھر واپس آنے والے افراد چھ گھنٹے تک کورنگی کی سڑک پر پھنسے رہے اور کوئی بھی ادارہ ان افراد کی امداد کو نہیں پہنچا۔
شدید بارش میں گاڑیاں بند کرکے یہ مسافر سوشل میڈیا کے ذریعے  لوگوں کو بتاتے رہے کہ وہ کتنی دیر سے اس مصیبت میں گرفتار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ سوال بھی کرتے رہے کہ اتنا بڑا شہر ہونے کے باوجود کیوں کراچی تیز بارشوں کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے۔
ایسے ہی ایک شہری، فاروق علی بلوچ، کا کہنا تھا کہ ان کو گھر پہنچنے میں چھ گھنٹے لگے۔ ان کے مطابق وہ خوش نصیب تھے کہ اس سفر کے دوران ان کے اہل خانہ ان کے ساتھ نہیں تھے مگر سڑک  پر کئی افراد اپنے خاندان کے ساتھ اس مشکل میں پھنسے ہوئے تھے۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کہ وہ پھر بھی جلد گھر پہنچ گئے مگر ان کے محلے کے کئی افراد کی گاڑیاں دیر تک کورنگی کے علاقے میں پھنسی رہی۔

 

 پیٹرول کی ٹنکی آدھی بھری ہوئی تھی، مگر فیول کافی حد تک کم ہوگیا تھا۔ دو گھنٹے گاڑی بند کر کے کھڑی کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ پٹرول ختم نہیں ہوا۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ چند گاڑی والوں کی غلط ڈرائیونگ کی وجہ سے اس قدر ٹریفک جام ہوتا ہے۔
انہوں نے اس دوران چھ ایمبولینسز ٹریفک میں پھنسی دیکھیں، جس میں سے تین تو ایمرجینسی کی لگ رہی تھیں۔
اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک دوسرے کی مدد بھی کی اور کئی نوجوانوں نے کھانے پینے کی اشیا بھی لوگوں میں بانٹیں۔
ایک اور شہری عظیم صدیقی نے اپنی پوری روداد ٹوئٹر پر لکھی کہ کس طرح وہ تقریباً آٹھ گھنٹے ٹریفک میں پھنسے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے دفتر سے نکلتے ہوئے سوچا تھا کہ شاید بارش کے باعث انہیں گھر پہنچنے میں دیر لگے مگر ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ اتنی بری طرح پھنس جائے گا۔ ’میں نے شہر بھی کبھی اس قسم کا ٹریفک جام نہیں دیکھا۔
گھنٹوں پھنسے رہنے کے بعد انہوں نے رہنما ٹریفک پولیس سے تین دفعہ رابطہ کیا اور انہیں حالات کا بتایا مگر ان کی کوئی داد رسی نہیں ہوئی۔ مگر رات بارہ بجے کچھ لوگوں نے پانی اور بسکٹس بانٹے جس سے بسوں اور گاڑیوں میں موجود لوگوں کی کچھ مشکل آسان ہوئی۔
میں نے دیکھا کہ سب سے مشکل میں اس وقت بائیک والے تھے لیکن وہ بھی کھڑے مسکرا رہے تھے کیونکہ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ اس شہر میں انہیں کبھی انسان تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے عظیم نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ لوگوں کی غلطی نہیں تھی کیونکہ انہوں نے گھنٹوں سڑک پر گزارے۔ ’ اس دوران انہوں نے دیکھا کہ  نہ کوئی سکنگ پمپ کام کر رہا تھا اور نہ تو کوئی ٹریفک پولیس اہلکار  ٹریفک سنبھال رہا تھا۔‘
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی کورنگی کے علاقے میں بارش کے دوران یہ مسئلہ  سامنے آتا رہا ہے۔ کورنگی میں واقع ای بی ایم کازوے برسات کے سبب زیرِآب آجاتی ہےجس سے ٹریفک کی آمدورفت مکمل طور پر بند ہوجاتی ہے۔ حکام اب تک یہ مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اردو نیوز نے ڈی ایم سی کورنگی کے چیئرمین نیئر رضا سے بات  کرنے کی کوشش کی تاہم ان کے موبائل اور دفتر کے نمبرز بند ملے۔

شیئر:

متعلقہ خبریں