مصباح الحق ہیڈ، وقار یونس بولنگ کوچ مقرر

مصباح الحق اور وقار یونس پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان رہ چکے ہیں۔ فوٹو:اے ایف پی
مصباح الحق کو قومی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مقرر کر دیا گیا ہے جبکہ بولنگ کوچ کے طور سابق فاسٹ بولر وقار یونس خدمات انجام دیں گے۔ دونوں کے معاہدے کی میعاد تین تین سال ہو گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے تقرریوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی پانچ رکنی کمیٹی نے عہدے کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز کیے تھے جن میں مصباح الحق کے علاوہ ڈین جونز، یوہان بوتھا، محسن خان اور وقار یونس شامل تھے۔

تصاویر: ٹی 20 فائنل میں کیچ آؤٹ سے ہیڈ کوچ تک کا سفر

دوسری جانب وقار یونس بولنگ کوچ کے لیے بھی امیدوار تھے جبکہ اس کے لیے ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے سابق فاسٹ بولر کورنٹی واش کا نام بھی سامنے آیا تھا تاہم وقار یونس مضبوط امیدوار تھے۔

مصباح الحق اور وقار یونس کا پہلا امتحان 27 ستمبر سے شروع ہونے والی سری لنکا سیریز ہوگی۔

پی سی بی کی کمیٹی نے عہدے کے لیے پانچ امیدواروں کا انٹرویو کیا تھا۔ فوٹو:آئی سی سی

خیال رہے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے کرکٹر مکی آرتھر ورلڈ کپ تک قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ تھے جن کے معاہدے کی مدت 7 اگست 2019 کو ختم ہوئی اور پی سی بی حکام نے اس کی تجدید نہیں کی۔
ورلڈ کپ میں ٹیم کی خراب کارکردگی کے بعد یہ صورت حال واضح طور پر نظر آ رہی تھی جس کا آغاز سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین انضمام الحق سے ہوا تھا۔ انہوں نے 17 جولائی ایک پریس کانفرنس میں عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
جبکہ سات اگست کو چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کرکٹ کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے تمام کوچنگ سٹاف کے معاہدے میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جن میں ہیڈ کوچ مکی آرتھر، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور، بولنگ کوچ اظہر محمود اور ٹرینر گرانٹ لڈن شامل تھے۔
مصباح الحق اور وقار یونس دونوں دنیائے کرکٹ کے بڑے نام ہیں، مصباح الحق کو پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کا کامیاب ترین کپتان سمجھا جاتا ہے۔

 ورلڈ کپ 2019 کے بعد سے کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر تنقید ہورہی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

مصباح الحق نے 2011 سے 2016 تک قومی ٹیم کی قیادت کی۔ 2012 میں ٹیم نے ایشیا کپ جیتا، وہ جنوبی افریقہ کو اسی کی سرزمین پر شکست دینے والے پہلے ایشین کیپٹن کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ان کی کپتانی کا اپنا انداز تھا جس میں وہ زیادہ تر دفاعی حکمت عملی اپناتے، بہترین فیلڈنگ پر ان کی خصوصی توجہ ہوتی۔ مصباح الحق کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ان دور کپتانی میں کسی قسم کا کوئی تنازعہ سامنے نہیں آیا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے 52 ٹیسٹ میچوں میں سے 24 جیتے، گیارہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور گیارہ ہی ڈرا ہوئے۔ اسی طرح 87 ون ڈیز میں 45 میچ جیتے گئے اور 39 ہارے۔
آٹھ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں قومی ٹیم  کو چھ میں فتح حاصل ہوئی اور صرف دو میں شکست ہوئی۔ 2015 میں آسٹریلیا کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دی اور 2016 میں انگلینڈ کو ہوم گراؤنڈ پر ہرا کر سیریز جیتی۔ ان کی زیرقیادت ٹیم نے ویسٹ انڈیز کی سرزمین اسی کی ٹیم سے سیریز بھی جیتی۔

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے معاہدے میں توسیع نہیں کی گئی۔ فوٹو:اے ایف پی

مصباح الحق کے دور قیادت میں ٹیم ٹیسٹ رینکینگ کی عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن رہی۔
اسی طرح وقار یونس بھی قومی ٹیم کے کپتان رہ چکے ہیں۔ ان کے دور قیادت میں سترہ ٹیسٹ میچ کھیلے گئے جن میں سے دس پاکستان نے جیتے اور سات میں شکست ہوئی، 62 ایک روز میچوں میں سے 37 جیتے گئے اور 23 میں ہار مقدر بنی۔ وہ پہلے بھی پاکستانی ٹیم کے بولنگ کوچ رہ چکے ہیں۔

شیئر: