’جنوبی یمن میں فوجی کارروائیاں روکیں‘

 سعودی عرب اور امارات قریبی ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں۔
 سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے یمن میں علیحدگی پسند جنوبی عبوری کونسل اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت سے کہا ہے کہ وہ جنوبی یمن میں تمام فوجی کارروائیاں روک دیں۔
 اتوار کو جاری مشترکہ بیان میں دونوں ملکو ں نے مذاکرات کے لیے یمن کی قانونی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے ردعمل کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ حالیہ بحران کے خاتمہ کی طرف ایک بڑا اور مثبت اقدام ہے۔ اختلافات کے خاتمے کے لئے مثبت ماحول اور بھائی چارے کے جذبے کے تحت کوششیں جاری رکھنا ضروری ہے۔
 مشترکہ بیان میں کہا گیاکہ فائر بندی پر عمل درآمد کے لیے فریقین کے ساتھ قریبی ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں۔

سعودی عرب اور امارات نے جھڑپیں رکوانے کےلئے مشترکہ کمیٹی قائم کی تھی ۔

 ایس پی اے کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ فریقین نجی اور سرکاری املاک کو کسی بھی شکل میں عسکری سرگرمیوں کا ہدف نہ بنائیں۔ ہر طرح کی خلاف ورزیوں سے باز رہیں۔ سعودی عرب اور امارات اور متعلقہ فریقوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی کے ساتھ سنجیدگی سے تعاون کریں ۔یہ کمیٹی عسکری سرگرمیوں کی بندش ان کی نگرانی اور امن عامہ کو تشویش میں مبتلا کرنے والی ہر طرح کی سرگرمیاں روکنے کے لئے قائم کی گئی ہے ۔
سعودی عرب اور امارات نے متعلقہ فریقوں سے کہا کہ وہ فتنہ برپا کرنے والی بیان بازی بند کریں ۔ اختلافات کو ہو ا دینے والے کسی بھی عمل سے دور رہیں ۔بحران پر قابو پانے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں ۔ یمنی عوام کے مفاد کو سب سے اوپر رکھیں ۔
دونوں ملکوں نے اطمینا ن دلایا کہ یمن کے ریاستی اداروں کے تحفظ ،ایرانی منصوبے کو ناکام بنانے ،حوثیوں کو شکست دینے اور یمن میں دہشت گرد تنظیموں کی بیخ کنی کے لیے آئینی حکومت سے تعاون جاری رکھا جائے گا جبکہ یمنی عوا م کے لیے انسانیت نواز امداد کاسلسلہ بر قرار رہے گا ۔
سعودی عرب اور امارات نے مزید کہا کہ یمنی عوام کے مفادات ، امن و استحکام ، خودمختاری ، اتحاد و سالمیت اور یمنی ریاست کے تحفظ کےلئے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی جملہ وسائل بروئے کار لاتے رہیں گے۔
و اضح رہے کہ سعودی حکومت نے یمن کی آئینی حکومت اور عدن میں برسرِ پیکار تمام فریقوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے اختلافات طے کرنے کےلئے اپنے دوسرے گھر سعودی عرب آئیں۔حکمت اور فراست سے کام لیں۔تفرقہ و انتشار کو پسِ پشت ڈالیں۔متحد اور متفق ہو کر ایران کے حمایت یافتہ دہشتگرد حوثیوں اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کا مقابلہ کریں۔یمنی ریاست اوراس میں امن و استحکام کی بحالی کی جدوجہد کریں۔
 سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پہلے بھی یمن کے عارضی دارالحکومت عدن میں پیش آنے والے سیاسی اور عسکری حالات پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
 یا درہے کہ 7اگست کو عدن میں آئینی حکومت کے اداروں اور ایوان صدارت پر علےحدگی پسندوں نے قبضہ کرلیا تھا۔کئی فوجی چھاﺅنیاں سرکاری افواج سے چھین لی تھیں۔ عدن میں یمن کی آئینی حکومت اور علیحدگی پسند یمنی گروپ کے درمیان ابین اور شبوہ صوبوں میں کشیدگی ہے۔
سعودی عرب اور امارات نے برسرِ پیکار فریقوں کے درمیان جھڑپیں رکوانے کےلئے مشترکہ کمیٹی قائم کی تھی ۔

 

شیئر: