عراق کی روسی میزائل سسٹم میں دلچسپی

عراق نے میزائل سودے کی درخواست ایران کی شہ پر کی ہے
عراقی قومی سلامتی کے مشیر اور ایران کے حامی گروپ ’الحشد الشعبی‘ کے سربراہ فالح الفیاض نے ماسکو کے دورے کے موقع پر روسی دفاعی فضائی سسٹم ایس 300 یا ایس 400 فروخت کرنے کی درخواست کی ہے ۔ 
الشرق الاوسط کے مطابق عرب ذرائع کا کہنا ہے کہ عراق نے روس سے میزائل سودے کی درخواست ایران کی شہ پر کی ہے ۔عراقی حکام نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ روس سے ایس400 حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ عراق نے فی الوقت سودے کی درخواست ایران کے کہنے پر کی ہے۔امریکہ اس پر وہی اعتراض کرے گا جو اس نے ترک حکام کی جانب سے ایس 400 میزائل کے سودے کے حوالے سے کیا تھا۔
گزشتہ ہفتوں کے دوران الحشد الشعبی کے اسلحہ گوداموں پر حملے ہوئے ہیں ۔ ان گوداموں میں ایرانی میزائل اوراسلحہ بھرے ہوئے تھے ۔خیال کیا جا تاہے کہ حملے اسرائیل نے کئے تھے ۔عراقی پارلیمنٹ کی نمائندہ جماعتیں امریکی افواج کی عراق سے بیدخلی کےلئے کوشاں ہیں۔
یہ مہم الحشد الشعبی کے اسلحہ گوداموں پر حملوں کے تناظر میں چلائی جا رہی ہے۔امریکہ نے اسلحہ گوداموں پر حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ۔
و اضح رہے کہ امریکہ اس سے قبل ترکی پر بھی زور دیتا رہا ہے کہ وہ روس کے دفاعی فضائی نظام ایس 400کے سودے سے دستبردار ہوجائے۔تاہم ترکی نے امریکی مخالفت کے باوجود روس سے میزائل سسٹم کی خریداری کا معاہدہ منسوخ نہیں کیا تھا۔

شیئر: