کشمیر میں ’35 روز سے نظام زندگی مفلوج‘

ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ اقوام متحدہ کو قانون اور انسانی حقوق کی بالادستی کے لیے آواز اٹھانا ہو گی۔ فوٹو اے ایف پی
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریس سے ملاقات کی اور کشمیر کی صورت حال پر بریف کیا۔ سیکرٹری جنرل سے ملاقات کے بعد ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں ملیحہ لودھی نے کہا کہ انہوں نے کشمیر کی صورت حال پر سیکرٹری جنرل کو تفصیلی بریف کیا ہے۔
ملیحہ لودھی نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے ملاقات میں کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے بعد سے وہاں نافذ کرفیو کی صورت حال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں، انڈیا کی جانب سے پانچ  اگست کے غیر قانونی اقدامات نے کشمیر میں متعدد بحران پیدا کر دیے ہیں۔
ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیر میں 35 روز سے جاری کرفیو نے وہاں کے نظام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں، انڈیا کی جانب سے کشمیر میں کیے گئے اقدامات عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قرادادوں کی واضح خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کی مستقل مندوب نے کہا کہ انڈین اقدامات سے خطے میں امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں، انڈین فوج کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کر رہی ہے، کشمیر میں بڑے انسانی المیے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ملیحہ لودھی نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو تنازعات سے بچاؤ کی سفارت کاری کا ایجنڈا کشمیر پر بھی لاگو کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ کو قانون، انصاف اور انسانی حقوق کی بالادستی کے لیے آواز اٹھانا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جاری ظلم وبربریت پر پاکستان خاموش نہیں رہ سکتا۔

شیئر:

متعلقہ خبریں