عرب ممالک میں 87 فیصد سائبر حملے چند منٹوں میں

صرف تین فیصد ادارے ایسے ہیں جن کا سیکیورٹی سسٹم بیحد مضبوط ہے۔
عرب ممالک میں 87 فیصد سائبر حملے چند منٹوں میں ہوئے جبکہ صرف تین فیصد حملے ایسے تھے جن کا فوری طور پر انکشاف ہوگیا۔ بین الاقوامی ہیکروں کی طرف سے مختلف اداروں کے سسٹم پر 68 ایسے حملے بھی ہوئے جن کا پتہ لگانے میں کئی ماہ جبکہ بعض حالات میں کئی سال بھی لگے۔
عاجل ویب سائٹ کے مطابق سعودی سائبر سیکیورٹی کے زیر اہتمام ریاض میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے شرکاء نے انتباہ دیا ہے کہ مختلف سعودی اداروں پر سائبر حملے ملازمین کی غلطیوں یا نادانیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
کانفرنس کے ایگزیکٹیو چیئرمین انجینیئر سامرعمر نے کہا ہے کہ ریاض میں سائبر سیکیورٹی کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس میں عالمی ماہرین اپنے تجربات سے شرکاء کو آگاہ کررہے ہیں۔ انکی طرف سے ملنے والی ہدایات سعودی عرب کے مختلف اداروں کی سیکیورٹی میں مفید ہونگی۔

بعض سائبر حملے ملازمین کی غلطیوں یا نادانیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سائبر سیکیورٹی کے عالمی ماہرین نے واضح کیا کہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اداروں میں کام کرنے والے ملازمین سائبر سیکیورٹی کے اصولوں سے آگاہ نہیں۔ انکی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے عالمی ہیکرز چند منٹوں میں اداروں کا سسٹم ہیک کردیتے ہیں یا تباہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
صرف تین فیصد ادارے ایسے ہیں جن کی سیکیورٹی بہت مضبوط ہے اور جہاں سائبر سیکیورٹی کا الگ ایک ادارہ قائم ہے۔ اسکی وجہ سے فوری طور پر معلوم کیا جاتا ہے کہ انکا سسٹم ہیک ہورہا ہے یا ہیکر سسٹم میں گڑبڑ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ کئی ادارے ایسے ہیں جنہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انکا سسٹم ہیک کرلیا گیا ہے۔ وہ ہیکنگ کے کئی ماہ بعد معلوم کرپاتے ہیں کہ انکا سسٹم ہیک ہوچکا ہے۔
                             
 

شیئر: