آبنائے ہرمز کھولنے کی امریکی درخواست نظرانداز، چین موقع سے فائدہ اُٹھا رہا ہے؟
آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے امریکہ اپنے سٹریٹجک حریف کی مدد مانگنے پر مجبور ہے (فوٹو:اے ایف پی)
چین صدر ٹرمپ کی درخواست پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں امریکہ کی مدد نہیں کرے گا۔ تاہم، ممکن ہے کہ وہ امریکی صدر کے بیجنگ دورے میں تاخیر کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہو۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف صدر ٹرمپ کی جنگ کو دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے تیل ترسیل متاثر ہو چکی ہے اور امریکہ کے اتحادیوں نے اس گزرگاہ کی سکیورٹی سے انکار کر دیا ہے۔
اس صورتحال نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ چین، جو امریکہ کا سب سے بڑا جغرافیائی حریف ہے، اس جنگ سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔
بین الاقوامی بحران گروپ میں امریکہ-چین تعلقات کے سینیئر ریسرچ اور ایڈوکیسی مشیر علی وائن کہتے ہیں کہ ’صدر ٹرمپ کی شی جن پنگ سے طے شدہ ملاقات کو ملتوی کرنے کی درخواست ظاہر کرتی ہے کہ انہوں نے آپریشن ایپک فیوری کے نتائج کا صحیح اندازہ نہیں لگایا تھا۔‘
امریکہ کی طاقت کے اس مظاہرے نے بیجنگ پر دباؤ ڈالنے کے بجائے امریکہ کی سب کچھ کر گزرنے کے امیج کو نقصان پہنچا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کو اکیلے دوبارہ کھولنے میں ناکام واشنگٹن اب اپنے پیدا کردہ بحران کو سنبھالنے کے لیے اپنے سب سے بڑے سٹریٹجک حریف کی مدد مانگنے پر مجبور ہے۔
کیا چین آبنائے ہرمز کی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے میں مدد کرے گا؟ چینی وزارت خارجہ نے اس سوال کا غیر واضح جواب دیا تاہم متعدد بار بار کہا کہ ’فریقین فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں، مزید کشیدگی سے بچیں اور خطے میں انتشار کو عالمی معیشت پر مزید اثر انداز ہونے سے روکیں۔‘
بیجنگ، جس نے کبھی بھی باضابطہ طور پر صدر ٹرمپ کے 31 مارچ کے دورے کی تصدیق نہیں کی تھی، نے دورے کو دوبارہ شیڈول کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور کہا کہ دونوں ملک رابطے میں ہیں۔
چین نے یہ بھی واضح کیا کہ دورہ ملتوی کرنے کا تعلق چین سے آبنائے ہرمز کی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے میں مدد کی درخواست سے نہیں ہے۔
منگل کو امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’چینیوں کو دورہ ملتوی کرنے کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ان کا چین کے ساتھ ’بہت اچھا ورکنگ ریلیشن شپ‘ ہے۔
سن یون، جو سٹیمسن سینٹر میں چین پروگرام کے ڈائریکٹر ہیں نے کہا کہ ’میرے خیال میں ایران کی درخواست اب چین کے لیے کم اہم ہو جائے گی۔‘
چینی سفارتکار مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور کشیدگی کم کرنے اور امن بحال کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔
