اسرائیل: غرب اردن کو شامل کرنے کا منصوبہ

غور الاردن اور بحیرہ مردار کے شمالی علاقے کو اسرائیل کا حصہ بنالیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتنیاہو نے گولان کی پہاڑیوں کے بعد غرب اردن کو بھی اسرائیل میں شامل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
انہوںن ے کہا کہ اگروہ 17 ستمبر کو ہونیوالے انتخابات جیت گئے تو غور الاردن اور بحیرہ مردار کے شمالی علاقے کو اسرائیلی ریاست کا حصہ بنالیں گے۔ غرب اردن میں موجود کوئی یہودی کالونی خالی نہیں کریں گے۔
اسکائی نیوز کے مطابق نتن یاہو نے منگل کو پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر آئندہ انتخابات میں دوبارہ وزیراعظم بن گیا تو غرب اردن میں موجود کوئی بھی یہودی کالونی خالی نہیں کروں گا ۔ امریکہ کے ساتھ ملکر تمام اسٹراٹیجک مقامات اور یہودی بستیوں کو اسرائیلی ریاست کا حصہ بنالیا جائے گا ۔ 

کوئی بھی یہودی کالونی خالی نہیں کروں گا ۔اسرائیلی وزیراعظم

نتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ آئندہ حکومت کا اعلان ہوتے ہی غورالاردن اور بحیرہ مردار کے شمالی علاقے کو اسرائیلی قلمرو میں شامل کرلوں گا ۔ غورالاردن ہمیشہ کےلئے اسرائیل کی خودمختاری میں آجائے گا ۔
اردن کے وزیرخارجہ ایمن الصفدی نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صورتحال بیحد خطرناک ہو جائے گی۔ پورا علاقہ تشدد اور کشمکش کی آماجگاہ بن جائے گا۔اس سے امن عمل کی تمام بنیادیں سبوتاژہوجائیں گی۔
الصفدی نے مزید کہاکہ اردن اسرائیلی وزیراعظم کے اعلان کو مسترد کرتا ہے ۔ اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی سمجھتا ہے ۔اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بیان انتخابی مہم کے تحت دیا ہے ۔اسکی قیمت امن عمل کو دفنانے کی صورت میں برآمد ہو گی ۔ اس سے قیام امن کے سلسلے میں خطے اور اسکے عوام کا حق سبوتاژہوجائےگا۔
اردنی وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ اسرائیلی اعلان کو مسترد بھی کرے اور اس کی مذمت بھی کرے۔
عرب وزرائے خارجہ نے منگل کو ہنگامی اجلاس منعقد کرکے اسرائیلی وزیراعظم کے خطرناک غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ بیان کا ذمہ دار اسرائیلی حکومت کو ٹھہرایا ۔انہوں نے کہا کہ تمام عرب ممالک فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی تائید و حمایت کے اپنے موقف پر قائم ہیں اور رہیں گے ۔

عالمی برادری  اسرائیلی اعلان کو مسترد کرے۔اردنی وزیر خارجہ

تنظیم آزادی فلسطین کی اعلیٰ عہدیدار حنان عشراوی نے نتن یاہو کے بیان کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی، عرب علاقوں کی چوری ، نسلی تطہیر اور تمام امن امکانات کو زیر و زبر کرنے کے مترادف قرار دیا۔
حنان عشراوی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے مبینہ بیان دیکر تمام معاہدوں کو معطل اور کھیل کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔وہ ہر انتخاب کے موقع پر جیتنے کےلئے ہمارے حقوق اور ہمارے علاقے ہڑپ لیتے ہیں ۔یہ بدترین نسلی تفریق ہے ۔یہ اپنی شناخت ، تہذیب اور تاریخ رکھنے والی قوم کو بے وطن کرنے کا فیصلہ ہے ۔ 
 

شیئر: