اسرائیل نے غزہ میں اقدامات کی نگرانی کرنے والے رہنماؤں کے ناموں پر اعتراض کر دیا
اسرائیل نے غزہ میں اقدامات کی نگرانی کرنے والے رہنماؤں کے ناموں پر اعتراض کر دیا
ہفتہ 17 جنوری 2026 21:07
غزہ میں جنگ بندی گذشتہ برس 10 اکتوبر کو نافذ العمل ہوئی تھی۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
اسرائیلی حکومت نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے غزہ میں آئندہ اقدامات کی نگرانی کرنے والے رہنماؤں کے ناموں کے اعلان پر اعتراض کیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سنیچر کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی ایگزیکٹو کمیٹی ’اسرائیل کے ساتھ مشاورت کے بغیر تشکیل دی گئی اور یہ اس کی پالیسی کے منافی ہے‘، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیراعظم نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے رابطہ کرے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعے کو اعلان کردہ کمیٹی میں کسی اسرائیلی سرکاری عہدیدار کو شامل نہیں کیا گیا، تاہم ایک اسرائیلی تاجر اس کا حصہ ہیں۔ اب تک اعلان کردہ دیگر ارکان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو قریبی معتمدین، برطانیہ کے سابق وزیراعظم، ایک امریکی جنرل اور مشرقِ وسطیٰ کی حکومتوں کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ ایگزیکٹو کمیٹی ٹرمپ کی قیادت میں قائم کیے جانے والے ’بورڈ آف پیس‘ کے وژن پر عمل درآمد کرے گی، جس کے ارکان کے نام تاحال سامنے نہیں آئے۔ وائٹ ہاؤس نے غزہ کے روزمرہ امور چلانے کے لیے ایک نئی فلسطینی کمیٹی کے ارکان کا بھی اعلان کیا ہے، جو ایگزیکٹو کمیٹی کی نگرانی میں کام کرے گی۔
ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی سیفر سٹیو وِٹکوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر، اپولو گلوبل مینجمنٹ کے چیف ایگزیکٹو مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور ٹرمپ کے نائب قومی سلامتی مشیر رابرٹ گیبریل شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے رابطہ کرے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
ٹرمپ انتظامیہ نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے تیار کردہ غزہ میں جنگ بندی کا منصوبہ اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ اس مرحلے میں غزہ میں نئی فلسطینی کمیٹی کا قیام، بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تعیناتی، حماس کو غیرمسلح کرنا اور جنگ سے تباہ شدہ علاقے کی تعمیرنو شامل ہے۔
غزہ میں جنگ بندی گذشتہ برس 10 اکتوبر کو نافذ العمل ہوئی تھی، جس کے پہلے مرحلے میں تمام باقی یرغمالیوں کی واپسی کے بدلے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی، انسانی امداد میں نمایاں اضافہ اور غزہ میں اسرائیلی افواج کے جزوی انخلا پر توجہ مرکوز کی گئی۔