Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی: گل پلازہ میں 15 ہلاکتیں، لواحقین کے لیے ایک، ایک کروڑ امداد کا اعلان

صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے گل پلازہ آتشزدگی میں مرنے والوں کے لواحقین کے لیے ایک ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے جو کل سے ملنا شروع ہو جائیں گی۔
پیر کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ آگ ابھی تک مکمل طور پر نہیں بجھ سکی ہے اور کہیں نہ کہیں سے پھر بھڑک اٹھتی ہے۔
ان کے مطابق ’65 افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن کو ڈھونڈنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک تو واقعے میں کسی تخریب کاری کا شائبہ سامنے نہیں آیا تاہم اگر ایسے کچھ شواہد سامنے آئے تو ایکشن لیا جائے گا۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایک ہزار سے 1200 تک کے قریب دکانیں تھیں، کوشش کر رہے ہیں ان دکانداروں کو کہیں اور جگہ دی جائے تاکہ وہ اپنا کام جاری رکھ سکیں۔
ان کے مطابق اس واقعے سے غلطیاں سدھارنے کی کوشش کریں گے وہ ہماری بھی ہو سکتی ہیں، کسی ادارے کی بھی اور دکانداروں کی بھی۔
ان کے مطابق اس وقت سب سے اہم کام متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونے کا ہے۔
قبل ازیں سنیچر کو کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اس کو 33 گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد بجھا دیا گیا ہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے۔
اس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کہا تھا کہ نکالی جانے والی آٹھ لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔ 
لاپتہ افراد کے حوالے سے پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ان کے اہل خانہ سے موبائل نمبرز حاصل کر لیے گئے ہیں اور ابتدائی ڈیٹا کے مطابق 20 سے زائد افراد کی آخری لوکیشن گل پلازہ کے اندر کی سامنے آئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران مزید لاشیں نکالی گئیں جبکہ جلی ہوئی دکانوں اور ملبے سے ایک بچے سمیت متعدد افراد کے اعضا بھی ملے جنہیں سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ 33 گھنٹے کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پایا گیا (فوٹو: اے ایف پی)

خیال رہے سنیچر کی شب تقریباً سوا 10 بجے گراؤنڈ فلور پر لگنے والی آگ لگی جو چند ہی لمحوں میں شدت اختیار کرتے ہوئے تیسری منزل تک پھیل گئی تھی۔
پولیس اور ریسکیو 1122 کے مطابق آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ عمارت کے کئی حصے گر گئے اور اندر موجود دکانیں مکمل طور پر جل کر راکھ بن گئیں۔
فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیوں اور ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے کا عمل شروع کیا، تاہم تنگ راستوں، شدید دھوئیں اور بلند شعلوں کے باعث کارروائی میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
سانحے کے بعد گل پلازہ کے باہر رقت آمیز منظر تھا، جہاں متاثرہ خاندانوں کے افراد بے بسی کے عالم میں اپنے پیاروں کی خبر کے منتظر دکھائی دیے۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ آگ کے باعث عمارت کے ستون شدید متاثر ہوئے ہیں اور مختلف حصوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ عمارت پرانی ہونے کے سبب کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ موجود ہے، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیاں انتہائی احتیاط کے ساتھ کی جا رہی ہیں۔
واقعے پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے تازہ صورتحال دریافت کی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

الیکٹرونکس ایسوسی ایشن نے متاثرہ دکانداروں سے اظہار یکجہتی کے لیے آج سوگ کا اعلان کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

صدر مملکت نے امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت دی اور شہید فائر فائٹر فرقان شوکت کی بہادری کو سراہتے ہوئے انہیں سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کی۔
وزیراعظم نے بھی واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اس مشکل گھڑی میں سندھ حکومت اور متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی گل پلازہ کا دورہ کیا اور امدادی کاموں کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔
دوسری جانب الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے سانحہ گل پلازہ پر آج یومِ سوگ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ لگنے سے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور دکانداروں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مارکیٹیں بند رکھی جائیں گی۔

 

شیئر: