یمن کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کی جانب سے صدارتی حکم پر تشکیل دی گئی ایک خصوصی کمیٹی نے ملک کی صدارتی قیادت کونسل (پی ایس سی) کے برطرف نائب صدر میجر جنرل عیدروس الزبیدی کے خلاف سنگین انکشافات پر مبنی تحقیقاتی نتائج جاری کر دیے ہیں۔
میجر جنرل عیدروس الزبیدی جن پر سنگین غداری اور ریاست کے خلاف دیگر جرائم کے الزامات عائد ہیں، اس وقت روپوش ہیں۔
عرب نیوز نے اس کمیٹی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی ایک کاپی دیکھی ہے جس سے انکشاف ہوتا ہے کہ میجر جنرل عیدروس الزبیدی پر اختیارات کے ناجائز استعمال بشمول کرپشن، زمینوں پر قبضے اور ذاتی فائدے کے لیے تیل کی تجارت کے الزامات ہیں۔
مزید پڑھیں
-
یمن کے وزیراعظم مستعفی، وزیر خارجہ ملک کے وزیراعظم مقررNode ID: 899540
سات جنوری کو صدارتی قیادت کونسل نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت میجر جنرل عیدروس الزبیدی کی رکنیت منسوخ کر دی گئی اور ان پر سنگین غداری، مسلح گروہ بنانے، فوجی افسران و سپاہیوں کے قتل اور ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین جرائم کے الزامات عائد کیے گئے۔
ساتھ ہی پراسیکیوٹر آفس کو تحقیقات کے لیے مکمل اختیارات دیے گئے تاکہ وہ ثبوت اکٹھے کرے اور ملوث افراد کو گرفتار کرے۔
کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میجر جنرل عیدروس الزبیدی ان تمام زیادتیوں کے ذمہ دار ہیں ’جس نے جنوبی صوبوں میں سیاسی اور عوامی تقسیم کی صورتحال پیدا کرنے میں حصہ ڈالا ہے۔‘
میجر جنرل عیدروس الزبیدی سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے سربراہ ہیں اور انہیں سات جنوری کو ریاض میں مذاکرات کے لیے موجود ہونا تھا لیکن وہ آخری لمحات میں فرار ہو گئے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انہوں نے عدن فری زون، العمال جزیرے، بیر فضل اور راس عمران جیسے علاقوں میں زمینوں کے بڑے ٹکڑوں پر قبضہ کیا۔ مزید برآں یمن پیٹرولیم کمپنی اور اس کے ڈائریکٹر طارق الولیدی پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ عیدروس الزبیدی کے برادرِ نسبتی جہاد الشوذبی اور وزیر ٹرانسپورٹ عبدالسلام حمید سے وابستہ کمپنی کے علاوہ کسی سے ایندھن درآمد نہ کریں۔

دعویٰ کیا گیا ہے کہ قریباً دو برس سے جہاد الشوذبی واحد سپلائر رہے اور بھاری منافع کمایا جو عیدروس الزبیدی کی جیب میں گیا۔
رپورٹ میں الاہلیہ ایکسچینج اور عریبین فرنیچر سینٹر جیسی کمپنیوں کا نام بھی لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر الزبیدی کی پشت پناہی سے چل رہی ہیں۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ تمام ’قبضے، لوٹ مار، اور مالی و انتظامی کرپشن کے انتہائی افسوسناک اقدامات‘ جنوبی حلقوں میں شدید تقسیم اور شکایات کے ابھرنے کی براہ راست وجہ بنے ہیں۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان کے مطابق انٹیلیجنس اطلاعات ہیں کہ سات جنوری کی رات عیدروس الزبیدی عدن سے ایک بحری جہاز کے ذریعے صومالی لینڈ فرار ہوئے اور وہاں سے ایک کارگو طیارے کے ذریعے ابوظبی پہنچے۔
ان پر عائد جرائم کا ایک حصہ دسمبر میں جنوبی یمن میں شروع کیے گئے فوجی حملوں سے متعلق ہے۔
یمنی حکومت کے قریبی ذرائع نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے مشرقی شہروں پر فوجی طاقت کے ذریعے چڑھائی کرنے کے لیے کام کیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حضرموت، المہرہ اور شبوا میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور فوجی اشتعال انگیزی کے جو واقعات تین دسمبر سے شروع ہوئے، انہیں ’یمنی عوام کے خلاف گھناؤنے جرائم تصور کیا جاتا ہے۔‘

یمن کی وزارتِ قانون و انسانی حقوق کے مطابق 2358 انفرادی جرائم کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگی، اور عوامی و نجی املاک کی لوٹ مار شامل ہے۔
سعودی فضائی کارروائیوں کی مدد سے یمنی حکومت نے جلد ہی مقبوضہ علاقے واپس لے لیے جس کے بعد متحدہ عرب امارات نے بھی اپنی افواج کے انخلا کا اعلان کیا۔
اسی دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ عیدروس الزبیدی کو یمن کو ملنے والی امداد میں سے ماہانہ 10 ارب یمنی ریال (42 ملین ڈالر) مل رہے تھے۔
یمنی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ’جس وقت عیدروس الزبیدی وہ فنڈز وصول کر رہے تھے، اس وقت سفارتی عملے سمیت یمنی شہری برسوں سے اپنی قانونی تنخواہوں سے محروم تھے۔‘
اس بحران کے حل کے لیے سعودی سفیر محمد الجابر نے حال ہی میں یمنی ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 90 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

اپنی روپوشی کے 10 دن بعد میجر جنرل عیدروس الزبیدی نے پہلی مرتبہ سوشل میڈیا پر اپنا بیان جاری کیا جس سے یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو کمزور کرنے کے ان کے ارادے واضح ہوتے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ ’ہم اب ایسے کسی بھی حل کو قبول نہیں کریں گے جو ہمارے حقوق کو کم کرے یا ہم پر کوئی ناقابلِ قبول حقیقت مسلط کرے۔‘
انہوں نے اپنے حامیوں سے عہد کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ ہم مطلوبہ قومی مقصد کے حصول تک مل کر یہ سفر جاری رکھیں گے۔ آپ کے عزم سے ہم غالب آئیں گے۔ آپ کے اتحاد سے جنوب کی حفاظت ہو گی اور آپ کے ارادے سے مستقبل کی ریاست قائم ہوگی۔‘
ان کے اس بیان نے یمن کے سیاسی منظر نامے میں مزید تناؤ پیدا کر دیا ہے جبکہ قانونی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
![]()











