انتقام کی روایت توڑے والی مصری خاتون

انتقام کی روایت ختم کرنے کےلئے خواتین پر مشتمل مصالحتی کمیٹی تشکیل دی ۔
دنیا بھر میں قبائل کی روایات اور مزاج میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ جس طرح پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کسی خاندان کے ایک فرد کے قتل کا بدلہ نسل درنسل چلتا ہے، یہ روایت صعید مصر(بالائے مصر )میں بھی موجودہے۔ 
بالائے مصر میں قنا کمشنری کے رکن پارلیمنٹ حمزہ ابوسحلی کی اہلیہ ایڈوائزر امانی ابوسحلی نے اس روایت کو تبدیل کرنے کےلیے ایک مثال قائم کر دی ۔ 
سعودی ہفت روزہ میگزین’ لہا‘کے مطابق بالائے مصر کا تاریخی نعرہ تھا ’انتقام نہ لینا شرمناک‘۔ تاہم امانی ابوسحلی نے اس کی جگہ نیا نعرہ یہ دیا’انتقام سے پاک بالائے مصر‘۔

میرے 15سالہ بیٹے کو قبائلی روایت کے تحت قتل کر دیا گیا

امانی ابوسحلی کے مطابق یہ 2014ءکا درد ناک دن تھا جب میرے 15سالہ بیٹے کو قبائلی روایت کے تحت قتل کر دیا گیا ۔میرا بیٹا اسکول سے موٹر سائےکل پر گھر واپس آرہا تھا۔مخالف خاندان کے افراد گھات میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے میرے بیٹے کو دیکھتے ہی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی ۔بیٹا موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ ہمارے خاندان کے کئی افراد بھی اندھا دھند فائرنگ سے زخمی ہوئے ۔
امانی ابوسحلی نے بھرائی ہوئی آواز میں بتایا کہ قتل کے واقعہ کے فوراً بعد میرے خاندان کے نوجوان آئے ۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کے فرزند کا انتقام لیں گے ۔انہوں نے حریف خاندان کے 8افراد کی گاڑی کو گھیر لیا مگر میں نے انہیں ایسا کرنے سے روکا اور کہا کہ ہم قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے بلکہ پولیس اسٹیشن جاکر رپورٹ درج کرائیں گے ۔ میرے خاوند نے بھی میرا ساتھ دیا ۔
امانی ابوسحلی نے مزید بتایا کہ اطمینان سکون حاصل کرنے کےلئے عمرے کا پروگرام بنایا ۔جگر گوشے سے محرومی کا درد ایک ماں ہی محسوس کر سکتی ہے ۔کوئی اور اس کے درد کو نہیں سمجھ سکتا۔

بیٹے سے محرومی کا درد ناقابل فراموش ہے لیکن کسی نہ کسی کو جرات کا مظاہرہ کر کے یہ سلسلہ بند کرانا ہی تھا

 اپنے خاوند کے ہمراہ قبیلے کی انتقامی روایت کو دفنانے کےلئے عزم اور حوصلے سے کام لیا ۔ انتقام کی روایت کو ختم کرنے کےلئے ماﺅں کی مدد چاہی۔اس مقصد کےلئے خواتین پر مشتمل مصالحتی کمیٹی تشکیل دی ۔
ماﺅں کو سمجھایا گیا کہ جب تک ہم اپنے جگر گوشوں کے نام پر انتقام کی روایت زندہ رکھیں گے تب تک کوئی بھی چین کی نیند نہیں سو سکتا ۔ خواتین میں یہ آگہی بھی پیدا کرنے کی کوشش کی کہ قتل کے واقعات پر مقدمہ بازی بھی خاندانوں کو معاشی اور سماجی طور پر تباہ کئے ہوئے ہے۔مصالحت ہی اس سے نمٹنے کا موثر اور بہترین حل ہے ۔ 
 مقتول کے باپ ابوسحلی نے کہا کہ بیٹے سے محرومی کا درد ناقابل فراموش ہے لیکن کسی نہ کسی کو جرات کا مظاہرہ کر کے اس کا سلسلہ بند کرانا ہی تھا۔

شیئر: