بغیر اجازت تصویر پر پانچ لاکھ درہم جرمانہ

متحدہ عرب امارات میں مرضی کے بغیر تصویر اتارنا خلاف قانون اور جرم ہے۔
متحدہ عرب امارات کے ماہر قانون ڈاکٹر یوسف الشریف نے کہا ہے کہ کسی کی مرضی کے بغیر اس کی تصویر اتارنا خلاف قانون ہے جس پر پانچ لاکھ درھم تک جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
امارات ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون نے کہا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے کوئی بھی اس سے بالاترنہیں۔ ’یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جو خلاف ورزی ہوئی وہ نادانی یا لاعلمی میں کی گئی یا کرنے والے کی نیت بری نہیں تھی۔ دنوں صورتوں میں قانون لاگو ہوگا اور جرم، جرم ہی رہتا ہے۔ لاعلمی میں بھی خلاف ورزی کرنے والا سزا کا حقدار ہے۔‘

 مرضی کے بغیر  تصویر اتارنا خلاف قانون ہے

الشریف نے مزید کہا کہ دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت کرتے ہوئے ان کی تصاویر لینا اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلانا غیر قانونی فعل ہے اس حوالے سے بعض خواتین کو قانون کی باریکیوں کا علم نہیں ہوتا اور وہ شادی بیاہ کی تقریبات میں اپنے موبائل سے خواتین کی تصاویر اتار لیتی ہیں جس کے لیے انہیں بعد ازاں خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تقریبات میں شریک خواتین اپنی لاعلمی کے باعث تصاویر اتار کر انہیں اپنی دوستوں یا گروپس میں ارسال کرتی ہیں جو قانون شکنی کے زمرے میں آتا ہے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت قانون موجود ہے۔‘
ڈاکٹر یوسف الشریف نے کہا کہ ’اگرکسی کی تصویر اس کی اجازت کے بغیر ا تاری گئی ہو اور وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے تو قانون کے مطابق اسے یہ حق ہے کہ وہ تصویر اتارنے والے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے۔‘

  قانون  سب کیلئے یکساں ہے کوئی بھی اس سے بالاترنہیں

ماہر قانون نے مزید کہا کہ اکثر شادی کی تقریبات میں دعوت ناموں پر واضح طور پر درج کیا جاتا ہے کہ خواتین کے حصے میں موبائل فون کیمروں سے اجتناب برتیں مگر اس انتباہ  کے باوجود جو خاتون ہال میں موجود کسی ایک یا دیگر خواتین کی تصویر کشی کرتی ہے تو وہ خود کو قانون کی گرفت میں لے آتی ہے۔
 ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں لوگوں کی حرمت کا خیال رکھنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے جبکہ کسی کی نجی زندگی کے بارے میں جستجو کرنا اور اس کی کھوج میں رہنا بھی قانون کی خلاف ورزی شمار کی جاتی ہے۔ ’سائبر کرائم کے قانون کی شق نمبر 21 کے مطابق کسی کی تصویر اتارنا اور اسے سوشل میڈیا پر منتقل کرنا جرم ہے اس پر ایک لاکھ 50 ہزار سے پانچ لاکھ درھم تک جرمانے کے علاوہ چھ ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
امارات کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز یو اے ای“ گروپ جوائن کریں

شیئر: