کیا پاکستان اوزون کو نقصان پہنچا رہا ہے؟

جب جب جون جولائی اور اس کے آس پاس والے مہینوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے زیادہ تر لوگ ماحولیات کو کوستے نظر آتے ہیں اور جنہیں سائنس کی تھوڑی بہت معلومات ہوتی ہیں وہ اوزون کی تہہ میں کمی میں گرمی کی وجہ تلاش کرتے ہیں۔
اوزون اور ماحولیات میں تعلق کے بارے میں جاننے سے قبل اس سوال کا جواب ضروری ہے کہ اوزون کیا ہے۔

اوزون کسے کہتے ہیں؟

عام الفاظ میں اس کا ادراک کیا جائے تو اس کی تعریف یوں ہوگی کہ اوزون مالیکیولز ہیں جو دنیا کو سورج کی تپش سے محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ ان تہوں میں موجود ہوتے ہیں جو دنیا کو ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ان مالیکیولز کی مقدار میں کمی کے نتیجے میں دنیا کو محفوظ رکھنے والی تہہ ہلکی ہوتی ہے جس کی وجہ سے دنیا تک سورج کی گرمی شدت سے پہنچتی ہے۔

ڈاکٹر فہیم کا کہنا کہ عالمی سطح پر اگر دیکھا جائے تو دنیا اس دور سے نکل آئی ہے جب اوزون کی مقدار گھٹتی جا رہی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی

اوزون کی مقدار میں کمی کا قصور انسانوں ہی کو جاتا ہے جنہوں نے روز مرہ کے استعمال کے لیے ایسی چیزیں ایجاد کیں جن میں ایسا مواد استعمال ہوتا ہے جو ماحولیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کی مثال اے سی اور فرج کی مشینوں میں استعمال ہونے والے مواد، یعنی کلوروفلورو کاربن ہے، جس کے استعمال سے اوزون کی مقدار کو نقصان پہنچتا ہے۔
لیکن ماحولیات سے متعلق جہاں ہر طرف بری خبر ہے وہاں اوزون کی مقدار کے حوالے سے ایک اچھی خبر بھی ہے۔

کیا پاکستان اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچا رہا ہے؟

اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے پروفیسر ڈاکٹر فہیم کھوکھر نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے اس خوشخبری کے بارے میں بتایا اور کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں ان گیسوں کی عام طور پر پیداوار کم ہوتی ہے جو اوزون کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے کلوروفلورو کاربن کا استعمال بلکل نہ ہونے کے برابر کر دیا ہے۔ ڈاکٹر فہیم کھوکر کا کہنا تھا کہ اس کے متبادل ہائڈروکلورو فلوروکاربن کا استعمال ہونے لگا ہے، جو کہ کم نقصان دہ ہے لیکن مستقبل میں اس کی جگہ اور بہتر مواد استعمال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ڈاکٹر فہیم کھوکھر نے بتایا کہ کلوروفلورو کاربن میں کلورین اور برومین نام کے کیمیائی مواد ہوتے ہیں۔ ’کلورین کا ایک ایٹم اوزون کے ایک لاکھ مولیکیولز کو تباہ کر سکتا ہے۔‘ اسی لیے کلوروفلورو کاربن کو اوزون کے لیے خطرہ کہا جاتا ہے۔
ان کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ  2020 تک پاکستان میں مکمل طور پر کلوروفلورو کاربن کا استعمال ختم کر دیا جائے گا۔

ڈاکٹر فہیم کے مطابق پاکستان ان ممالک میں سے ہے جنہوں نے کلوروفلورو کاربن کا استعمال بلکل نہ ہونے کے برابر کر دیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

ڈاکٹر فہیم نسٹ یونیورسٹی کے ماحولیات کے طلبہ کے ساتھ تحقیق میں شامل ہیں جو آگے جا کر لوگوں میں ماحولیاتی حفاظت کی تعلیم کو عام کرنے میں کام آئے گی۔
پاکستان میں اوزون سے متعلق بہتری میں مونٹریال پروٹوکول کا بھی ہاتھ ہے۔

مونٹریال پروٹوکول کیا ہے؟

مونٹریال کینیڈا کے صوبے کیوبیک کے بڑے شہر کا نام تو ہے لیکن اس نام کا ایک عالمی معاہدہ بھی ہے جو کہ 1987 میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ان ملکوں نے عہد کیا تھا کہ وہ اوزون کو نقصان پہنچانے والے مواد کا استعمال ختم کریں گے، کیونکہ اس کی وجہ سے صرف گرمی کی شدت میں اضافہ ہی نہیں بلکہ کینسر، آنکھ کے امراض اور فصل کو نقصان کے بھی خطرات ہیں۔
دیکھا جائے تو ویسے بھی پاکستان کی جانب سے اوزون کو زیادہ خطرہ لاحق نہیں ہے۔ لیکن ڈاکٹر فہیم کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر اگر دیکھا جائے تو دنیا اس دور سے باہر نکل آئی ہے جب اوزون کی مقدار گھٹتی جا رہی تھی۔

 

اب اس میں بہتری آ رہی ہے اور اس کی بڑی وجہ کلوروفلورو کاربن کے استعمال میں کمی ہے۔
اس سوال پر کہ کس سال سے اوزون کی سطح میں بہتری آ رہی ہے، ڈاکٹر فہیم کھوکر کا کہنا تھا کہ 2017 سے اوزون کی مقدار میں واپس اضافہ شروع ہوگیا ہے۔
یوں تو اوزون کی حفاظت کے لیے دنیا بھر میں اقدامات جاری ہیں لیکن اس کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کی زندگی اتنی طویل ہوتی ہے کہ یہ ایک لمبے عرصے تک ہوا میں رہتی ہیں۔ ’کلوروفلورو کاربن کے استعمال کو ختم کرنے کے بعد مکمل طور پر ماحولیاتی بحالی میں تقریباً 50 سال لگ سکتے ہیں۔
 

شیئر:

متعلقہ خبریں