گرین لینڈ کے باسی موسمیاتی تبدیلیوں سے پریشان

یورپ کے برفانی علاقوں میں ’سلیج‘ کی سواری کا رواج بہت عام ہے یعنی لکڑی کے مخصوص پھٹے کو شکاری کتے برف پر گھسیٹتے ہوئے چلاتے ہیں۔ فوٹو: روئٹرز
جزیرہ گرین لینڈ کے گاؤں ’کُلو سُک‘ کے باسی شدت سے سردیوں کی برفباری کے منتظر ہیں تاکہ وہ اپنے پالتو شکاری کتوں کے ساتھ پھر سے شکار کر سکیں۔
سردیوں میں یورپی جزیرے گرین لینڈ کا درجہ حرارت منفی 35 ڈگری تک چلا جاتا ہے اور 85 فیصد گرین لینڈ برف سے ڈھک جاتا ہے۔ لیکن یہاں کے باسیوں کو خدشہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں ان کے ماحول پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔
’کُلو سُک‘ گاؤں کے 59 سالہ باسی موسز باجاری نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کے جزیرے کا موسم پہلے جیسا نہیں رہا۔
’برف بدل رہی ہے۔‘
سردیوں میں جب سمندر برف کی موٹی تہہ سے ڈھک جاتا ہے تو موسز باجاری لکڑی کے مخصوص پھٹے یا تختے ’سلیج‘ پر بیٹھ کر سمندر کا رخ کرتے ہیں۔ یورپ کے برفانی علاقوں میں سلیج کی سواری بہت عام ہے جس کو شکاری کتے برف کے اوپر گھسیٹتے ہوئے لے کر جاتے ہیں۔
موسز کے سلیج کے ڈرائیور ان کے بارہ شکاری کتوں کی ٹیم ہے جو ان کو ساحل سمندر تک پہنچاتے ہیں جہاں سے پھر وہ کایک کشتی میں بیٹھ کر جمے ہوئے سمندر میں سِیل کا شکار کرتے ہیں۔

گرین لینڈ کے باسی موسمی تبدیلیوں کا شکار ہونے کے بعد ’سلیجنگ‘ کے شوق کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

موسز کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے 35 سال سے شکار کر رہے ہیں لیکن اب برف کا سلسلہ غیر متوقع ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے فروری کے مہینے سے جون، جولائی تک برف کی موٹی تہہ جمی رہتی تھی۔ اب درجہ حرارت میں تبدیلی کے باعث برف دیر سے جمتی ہے اور جلدی پگلنا شروع ہو جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سلیج کے ذریعے نقل و حرکت قدرت کے قریب جانے کا ذریعہ ہے۔
’جب میں زندگی یا کسی خاندانی مسئلے سے دوچار ہوں تو اپنے شکاری کتوں کے ساتھ قدرتی مقامات کا رخ کرتا ہوں۔‘
آرکٹک زون، جہاں گرین لینڈ بھی واقع ہے، کا درجہ حرارت باقی خطے کے درجہ حرارت سے دو گنا زیادہ بڑھ رہا ہے۔ جزیرے کی 79 فیصد آبادی کو ڈر ہے کہ سمندر کی برفیلی سطح پر اب چلنا خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے وہ سمندر کے جمنے کا انتظار کرتے تھے تاکہ اس پر سلیج چلا سکیں۔
گرین لینڈ کی یونیورسٹی کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق 67 فیصد لوگوں کے خیال میں موسمی تبدیلی سلیجنگ‘ کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔

گرین لینڈ میں پالتو شکاری کتوں کی تعداد کم ہو کر 15،000 ہو گئی ہے، جو کہ 2002 میں 25،000 تھی۔ فوٹو اے ایف پی

گرین لینڈ کے ایک اور شہری کونک ایبلسین جنہوں نے 22 شکاری کتے پال رکھے ہیں کا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگوں کے پاس نہ تو فٹبال گراؤند ہیں اور نہ ہی سوئمنگ پول، اور ایسے میں شکاری کتوں کے ساتھ سلیج کے ذریعے قدرتی مقامات پر جانا واحد مشغلہ رہ جاتا ہے۔
’اگر ہم نے سلیج استعمال کرنا بند کر دیے تو ہم اپنی ثقافت کا بہت بڑا حصہ کھو دیں گے۔‘
دیگر سلیج رکھنے والوں کی طرح کونک ایبلسین بھی سیاحوں کو سلیج پر جزیرے کی سیر کراتے ہیں، اور 150 امریکی ڈالر ایک چکر کے کماتے ہیں۔
لیکن موسمی تبدیلیوں کے بعد دیگر باسیوں کی طرح ایبلسین بھی سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کیا اب جانور پالنا فائدہ مند بھی ہے۔
جزیرے کے اکثر باسی کم سے کم کتے پالنے پر مجبور ہو گئے ہیں یا پھر بالکل ہی یہ شوق چھوڑ رہے ہیں۔
2016 کے اعداد و شمار کے مطابق گرین لینڈ میں پالتو شکاری کتوں کی تعداد کم ہو کر 15 ہزار ہو گئی ہے، جو کہ 2002 میں 25 ہزار تھی۔
ایبلسین کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی ان کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ اپنا خاندانی شوق چھوڑ کر مچھلیاں پکڑنے کی طرف راغب ہوں، جو سمندر پگھلنے کی وجہ سے اب ممکن ہو سکے گا۔

شیئر: