’ 3سالہ بچی زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے‘

ا نڈین فیملی کے 3 افراد کو حیدرآباد دکن میں سپرد خاک کردیا گیا۔  (تصویر ٹویٹر)
 خلیجی ریاست عمان کے شہر سلالہ سے واپسی پر حادثے میں ہلاک ہونے والی ا نڈین فیملی کے 3 افراد کو آبائی شہر حیدرآباد دکن میں سپرد خاک کردیا گیا۔ 
دبئی میں مقیم سافٹ ویئر ڈیولپر عظمت اللہ خان ، ان کی اہلیہ عائشہ اور 8 ماہ کا بچہ حمزہ خان موقع دم توڑ گیا تھا جبکہ3 سالہ بیٹی ہانیہ اسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔
و اضح رہے کہ عظمت اللہ خان تعطیلات گزارنے کے بعد دبئی واپس آرہے تھے کہ متحدہ عرب امارات کو سلالہ سے ملانے والی شاہراہ پرگزشتہ جمعہ حادثہ پیش آیا ۔اس میں 3 عمانی شہری بھی ہلاک ہو ئے تھے ۔
 عظمت اللہ خان اور عائشہ کے اہل خانہ صدمے کی حالت میں ہیں اور3 سالہ بچی کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کر رہے ہیں۔

حادثہ  میں 3 عمانی شہری بھی ہلاک ہو ئے تھے ۔

 عظمت اللہ خان کے چھوٹے بھائی عزیز اللہ خان کے مطابق ہانیہ کی حالت میں کچھ بہتری آئی ہے۔
 گلف نیوز اورخلیج ٹائمز کے مطابق عزیز اللہ خان نے بتایا ’ چاروں ہماری دنیا اور زندگی تھے ،ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے ۔ میری والدہ حادثہ کی خبر سننے کے بعد سے صدمے میں ہیں‘۔
 عزیز اللہ خان کا کہنا تھا کہ’ میرے بھائی ا پنی فیملی کے ہمراہ مئی 2015 سے متحدہ عرب امارات میں مقیم تھے ۔ گھر میں سب سے بڑے تھے ۔ میرے والد جیسے تھے اور ہر چیز کا خیال رکھتے تھے۔ ہمارے خاندان کی جان تھے‘۔
 دبئی میں انڈین قونصل جنرل نے بتایا کہ حادثے میں مرنے والوں کی نعشوں کو ہندوستان واپس بھیجنے میں تعاون کیا۔ عمان میں سفارت خانہ بھی ہر طرح کی مدد فراہم کر رہا ہے۔متاثرہ خاندان اور کمپنی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

شیئر: