’دو گھنٹے پہلے مٹھائی تقسیم کر رہی تھیں‘

چانڈکا میڈیکل کالج کی طالبہ نمرتا کی نعش پیر کو ان کے کمرے سے ملی تھی (فوٹو:ٹوئٹر)
سندھ کے شہرلاڑکانہ میں میڈیکل فائنل ائیر کی طالبہ نمرتا چاندنی کی پراسرار موت نے بہت سے سوالات کھڑے کردیے ہیں جن کا جواب پولیس بھی تاحال دینے سے قاصر ہے اور ابھی تک واقعے کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کی جا سکی۔
واضح رہے کہ پیر کو 2 بجے چانڈکا میڈیکل کالج کی طالبہ نمرتا کے کمرے سے ان کی لاش ملی اور گمان ظاہر کیا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر خودکشی کی ہے جبکہ عینی شاہدین اور متعلقہ افراد کے مطابق جب کمرے کا دروازہ کھولا گیا تو لاش چھت سے لٹکی ہوئی نہیں تھی بلکہ بستر پہ پڑی تھی۔
نمرتا کی گردن پہ رسی کا نشان گول دائرے کی صورت میں تھا نہ کہ بیضوی شکل میں جیسا کہ عموماً خودکشی کی صورت میں ہوتا ہے۔ ان کے بھائی ڈاکٹر وشال کا کہنا ہے کہ ان کی بہن کا قتل ہوا ہے اور وہ اس کا پوسٹ مارٹم کراچی میں آغا خان ہسپتال سے کروائیں گے۔ اس حوالے سے نمرتا کی لاش سے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر وشال جو کراچی کے ڈاؤ ہسپتال میں بطور ٹیچنگ فیکلٹی کام کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ اپنے میڈیکل کے تجربے سے یہ بات وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ نمرتا کا قتل ہوا ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی ایف آئی آر درج کر کے معاملے کی باضابطہ تفتیش شروع کی جائے گی۔ فوٹو:ٹوئٹر

لاڑکانہ میں نمرتا کا پوسٹ مارٹم رات ڈھائی بجے ہوا تھا تاہم نمرتا کے خاندان کے بیان کے بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی تک جاری نہیں کی گئی، پولیس کا بھی اس حوالے سے ابھی تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔ پہلے وہ کراچی سے نمرتا کے گھر والوں کی آمد کا انتظار کر رہی تھی اور اب پوسٹ مارٹم رپورٹ کا، جس کے بعد ہی ایف آئی آر درج کر کے باضابطہ تفتیش شروع کی جائے گی۔
دوسری جانب نمرتا کے ساتھی طلبا نے لاڑکانہ میں ایس پی چوک پہ دھرنا دے دیا ہے اور وہ انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دھرنے میں بیٹھے طلبا کا کہنا ہے ’ایک دن بعد تو نمرتا کا فائنل وائیوا تھا اور اس خوشی میں وہ پیر کو دوستوں میں مٹھائی تقسیم کر رہی تھی اور دو گھنٹے بعد اس کی لاش ملی، ایسا کیسے ہو سکتا کہ اس نے خود کشی کی ہو۔‘
نمرتا کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز بھی وائرل ہورہی ہیں جن میں کچھ افراد کی جانب سے کالج میں داخلے کے لیے پیسوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو مبینہ طور پرنمرتا نے بنا کر اپلوڈ کی تھی اور اس کی موت اسی وجہ سے ہوئی۔ تاہم ’اردو نیوز‘ کے ذرائع نے اس بات کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ویڈیو میں ڈگری کالج میں داخلوں کی بات ہو رہی ہے، جب کہ نمرتا ڈینٹل کالج کی طالبہ تھیں۔

نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال کا کہنا ہے کہ وہ اپنے میڈیکل کے تجربے سے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ نمرتا کا قتل ہوا ہے۔ فوٹو: ٹوئٹر

لاڑکانہ کے ایس ایس پی مسعود بنگش کا کہنا ہے کہ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کر لیے ہیں۔ نمرتا کے لیپ ٹاپ اور موبائل کا فارنزک بھی کروائیں گے، اس کے علاوہ جیو فینسنگ بھی کروائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد ورثا سے رابطہ کر کے مقدمہ دائر کیا جائے گا۔
نمرتا کے قریبی عزیز نند لعل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاندان کا تعلق میرپور ماتھیلو سے ہے، لڑکی کے والد جے پال کاروبار کرتے ہیں اور کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے سرکاری ہسپتال کی جانب سے کیے گئے پوسٹ مارٹم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ کراچی کے پرائیویٹ ہسپتال سے پوسٹ مارٹم کروائیں گے۔
میڈیکل کالج کی وائس چانسلر ڈاکٹر انیلہ رحمان نے بتایا کہ نمرتا بی بی آصفہ ڈینٹل کالج میں فائنل ایئر کی طالبہ تھیں اور ان کے کمرے سے کچھ گولیاں بھی ملی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا ’ہاسٹل وارڈن کے مطابق نمرتا کی لاش چھت سے لٹکی ہوئی نہیں تھی اور اس کے گلے میں دوپٹہ بہت سختی سے بندھا ہوا تھا جسے چھوٹی قینچی کی مدد سے کاٹ کر کھولا گیا۔‘
دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی اس سانحے پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ٹوئٹر پر ’جسٹس فار نمرتا‘ کا ٹرینڈ بھی چل رہا ہے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر:

متعلقہ خبریں