آرامکو حملے کے بعد عالمی رہنماؤں کے فون

روسی صدر نے تیل تنصیبات پر حملے کی مذمت کی ہے (فوٹو: سبق)
ولی عہد ووزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان سے روسی صدر ولادیمیر پوٹین نے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے آرامکو تیل تنصیبات پر حملے کے علاوہ خطے کو درپیش تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
سبق کے مطابق پوٹین نے کہا ہے روس تیل تنصیبات پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتاہے اور یقین دلاتا ہے کہ روس، سعودی عرب کے امن واستحکام کے لیے کیے جانے والے ہر فیصلے کی حمایت کرتا ہے۔
قبل ازیں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے فرانسیسی صدر امانوئل میخواں اور برطانوی وزیراعظم بورس جا نسن نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔
دونوں عالمی رہنماﺅں نے آرامکو پلانٹس پر تخریبی حملے کی مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
 برطانوی وزیر اعظم نے ا یسے حملوں سے نمٹنے میں سعودی قیادت کی دانشمندی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مجرمانہ کاررائیوں کے خلاف مضبوط عالمی موقف اپنایا جائے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے برطانوی وزیر اعظم کو بتایا کہ یہ تخریبی حملہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری دنیا کے خلاف کھلی جارحیت ہے۔ تیل کی تنصیبات پرحملوں میں ملوث قوتوں کے خلاف پوری دنیا کو متحد ہو کرلڑنا ہوگا۔

 برطانوی وزیر اعظم نے ایسے حملوں سے نمٹنے میں سعودی قیادت کی دانشمندی کی تعریف کی ۔فائل فوٹو: ایس پی اے 

فرانسیسی صدر ایمل میکرون نے منگل کی صبح ولی عہد کو ٹیلی فون کیا ۔ آرمکو میں ہونے والی دہشت گر دی پر دکھ کا اظہار کیا۔
فرانسیسی صدر نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمارے نزدیک مملکت کا امن واستحکام انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ فرانس حملے کے مقامات کی نشاندہی کے لیے بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے مشرق وسطی میں قیام امن کی کوششوں کو بھی سراہا۔
 اس موقع پر ولی عہد محمد بن سلمان نے فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی تخریبی کارروائیوں کا مقصد خطے کے امن کو تہ و بالا کرنا اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے ۔

شیئر: