Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فواد وزیراعظم کو کچھ بتانا چاہ رہے ہیں؟

فواد چوہدری کے خیال میں ترقی یافتہ ممالک میں وزیر ٹیکنالوجی کا عہدہ ڈپٹی وزیر اعظم کے برابر ہوتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ ٹماٹر، آلو اور پیاز بیچ کر خسارہ کم نہیں کیا جا سکتا اس کے لیے ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنا ہو گا۔ سندھ اور کراچی کو بہتر بنانے کی کوشش ہونی چاہیے۔ چاہے وہ وفاقی مداخلت ہی کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔
بدھ کو کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ ماضی میں سائنس پر توجہ نہیں دی گئی۔
’ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے ممالک ملائشیا، چین، سنگاپور، انڈونیشیا، کوریا اور پاکستان میں صرف ٹیکنالوجی کا فرق ہے۔‘
فواد چودھری کا مزید کہنا تھا کہ ان ممالک میں وزیر ٹیکنالوجی کا عہدہ تقریباً ڈپٹی وزیر اعظم کے برابر ہوتا ہے۔
یہ بات وزیر اعظم کو بھی بہانے بہانے سے بتاتا رہتا ہوں تاکہ ان کا دھیان پڑ جائے، ابھی تک تو نہیں پڑا، اللہ کرے پڑ جائے‘
بعدازاں کراچی میں ہی فواد چودھری نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں چونکہ کچرہ حکومت ہے اس لیے کراچی میں کچرہ ہے۔ جب تک اس کچرہ حکومت کو کچرے کے ڈبے میں نہیں ڈال دیا جاتا کچرہ ختم نہیں ہو گا۔
’لوگوں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ کچرے کے ساتھ زندہ رہنا ہے یا کچرے کے بغیر۔‘

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سائنس اور ٹینکنالجی میں ترقی سے ہی ملک کا بجٹ خسارہ کم کیا جا سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آج 2019 میں بھی لوگ کتے کے کاٹنے سے مر رہے  ہیں۔ زندگی سب کی ایک جیسی ہے چاہے شہری علاقے ہوں یا اندرون سندھ۔
انہوں نے سندھ حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان سے کچھ نہیں ہونے والا ’یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں‘
پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب نے ان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہمیشہ چور دروازے کی تلاش میں رہنے والے فواد چودھری وفاقی وزیر ہیں۔  
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: