نمرتا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی مگر مقدمہ درج نہ ہو سکا

احتجاج کرنے والے طلبہ نے میڈیکل کالج کی وائس چانسلر کی معطلی کا مطالبہ کیا ہے۔ فوٹو: ٹوئٹر
سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے بی بی آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتا چندانی کی موت کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس سرجن نے جاری کر دی ہے جس میں گلے کے گرد زخم کے نشان کا تذکرہ ہے مگر موت کی اصل وجہ تاحال نہیں بتائی گئی۔
میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر شمس کھوسو کا کہنا تھا کہ نمرتا کے جسم سے نمونے کیمیکل ایگزامینیشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جن کے نتائج آنے کے بعد ہی حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی جس میں موت کی وجہ کا تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حتمی رپورٹ آنے میں مزید 5 دن لگ سکتے ہیں۔
دوسری جانب محمکہ داخلہ سندھ نے نمرتا چندانی کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کے احکامات دے دیے۔ محمکہ داخلہ کی جانب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاڑکانہ سے نمرتا چندانی کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کی درخواست کی گئی ہے۔ محمکہ کے سرکلر کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے تحقیقات ایک ماہ کے اندر مکمل کرکے رپورٹ جمع کرانے کا کہا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ نے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او لاڑکانہ کو حکم دیا ہے کہ وہ عدالتی تحقیقات میں مکمل تعاون کریں۔
پولیس سرجن کی طرف سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نمرتا کے جسم پر تشدد کے کوئی نشان موجود نہیں۔ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ گردن میں کوئی چیز باندھنے کے نشان ہیں تاہم دوپٹے یا رسی کا ذکر نہیں کیا گیا۔
نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال چندانی نے پولیس سرجن کی رپورٹ کو یکسر رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بہن کے جسم پہ تشدد کے واضح نشانات تھے جو انہوں نے دیکھے۔ وشال کا دعویٰ ہے کے ان کی بہن کو زیادتی اور بلیک میلنگ کر کے قتل کیا گیا ہے۔
میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وشال نے بتایا کے ان کے سامنے ڈاکٹروں نے پولیس سرجن کو لکھ کر دیا تھا کے نمرتا کے دونوں بازو اور ایک ٹانگ پر زخم کا نشان ہے، تاہم پولیس سرجن نے اپنی رپورٹ میں اس کا ذکر بھی نہیں کیا۔

ابتدائی پوسٹ ماٹم رپورٹ میں بھی نمرتا کی موت کی وجہ سامنے نہ آ سکی۔ فوٹو: ٹوئٹر

دوسری جانب اس کیس کی ایف آئی آر دو دن گزر جانے کے بعد بھی درج نہیں کی جا سکی ہے۔
منگل کو نمرتا کے اہلِ خانہ اس کی آخری رسومات میں مصروف تھے۔ بدھ کو ڈی آئی جی لاڑکانہ نے انہیں اپنے دفتر بلوایا جہاں اعلیٰ پولیس حکام نمرتا کی موت کی ایف آئی آر درج کرنے کے حوالے سے بات کریں گے۔
سندھ حکومت نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کے واقعے کی تمام زاویوں سے تحقیقات کی جارہی ہیں اور اگر میڈیکل کالج کے عہدیداران ملوث ہوئے تو ان کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ پیر کو 2 بجے چانڈکا میڈیکل کالج کی طالبہ نمرتا کے کمرے سے ان کی لاش ملی تھی اور گمان ظاہر کیا گیا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر خودکشی کی ہے جبکہ عینی شاہدین اور متعلقہ افراد کے مطابق جب کمرے کا دروازہ کھولا گیا تو لاش چھت سے لٹکی ہوئی نہیں تھی بلکہ بستر پہ پڑی تھی۔

پولیس سرجن کے مطابق کیمیکل ایگزامینیشن کے نتائج آنے کے بعد حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔ فوٹو: ٹوئٹر

نمرتا کی گردن پہ رسی کا نشان گول دائرے کی صورت میں تھا نہ کہ بیضوی شکل میں جیسا کہ عموماً خودکشی کی صورت میں ہوتا ہے۔ ان کے بھائی ڈاکٹر وشال کا کہنا ہے کہ ان کی بہن کا قتل ہوا ہے اور وہ اس کا پوسٹ مارٹم کراچی میں آغا خان ہسپتال سے کروائیں گے۔ اس حوالے سے نمرتا کی لاش سے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر وشال جو کراچی کے ڈاؤ ہسپتال میں بطور ٹیچنگ فیکلٹی کام کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ اپنے میڈیکل کے تجربے سے یہ بات وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ نمرتا کا قتل ہوا ہے۔
نمرتا کے ساتھی طلبہ کی جانب سے لاڑکانہ میں ایس پی چوک پر دوسرے دن بھی دھرنا دیا جا رہا ہے اور شرکا انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دھرنے میں بیٹھے طلبہ کا کہنا ہے ’ایک دن بعد تو نمرتا کا فائنل وائیوا تھا اور اس خوشی میں وہ پیر کو دوستوں میں مٹھائی تقسیم کر رہی تھیں اور دو گھنٹے بعد اس کی لاش ملی، ایسا کیسے ہو سکتا کہ اس نے خود کشی کی ہو۔‘
احتجاج کرنے والے طلبہ نے میڈیکل کالج کی وائس چانسلر کی معطلی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: