چونیاں: ’سلمان کو ڈھونڈتا رہتا یا دوسرے بچوں کا پیٹ پالتا؟‘

آج کل قصور ایک بار پھر خبروں میں ہے اور بدقسمتی سے خبریں بھی وہی، جنہوں نے قصور کی پہچان تبدیل کرنا شروع کر دی ہے۔ کبھی یہ دھرتی بابا بلھے شاہ کے نام سے جانی جاتی تھی اب پچھلے کچھ سالوں سے بچوں کے ساتھ کی گئی درندگی اور ان واقعات میں کمی واقع نہ ہونا، قصور کی ظاہری علامت بن رہی ہے۔
اور کسی کو کچھ پتا نہیں کہ یہ سلسلہ کب تھمے گا، ہر کہانی پہلے سے مختلف اور زیادہ درد ناک ہے۔ ضلع قصوراپنے ایک قصبے چونیاں میں تین بچوں کے اغوا کے بعد ہلاکتوں کی وجہ سے سوگوار ہے۔
چونیاں میں داخل ہوتے ہی جو پہلی چیز آپ کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے وہ ہے پر اسرار لیکن خاموش خوف، چیخیں محسوس ہوتی ہیں سنائی نہیں دیتیں۔ تینوں بچوں فیضان، سلمان اکرم اور علی حسنین کی لاشیں ملنے کے اگلے روز چونیاں میں کاروبار ٹھپ اور ہر چہرہ افسردہ تھا۔

 

سلمان کو ڈھونڈتا یا بچوں کا پیٹ پالتا؟


بچوں کے اغوا اور قتل پر نہ صرف مقامی افراد بلکہ ملکی سطح پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے: فوٹو اردو نیوز

چونیاں کے قصبے میں ہر چوک پر لوگوں کو ہجوم دکھائی دے رہا تھا۔ سب سے بڑا ہجوم مسجد کے باہر تھا کیوں کہ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور آئی جی پنجاب تشریف لا چکے تھے اور تینوں بچوں کے والدین سے تعزیت اور وعدہ کیا کہ مجرموں کو پکڑ کر دم لیں گے۔
سرکاری مشینری کا زور ٹوٹا تو مسجد کے ایک کونے میں سلمان کا والد اکرم گہری سوچ میں ڈوبا سر جھکانے بیٹھے تھے۔
جب ان سے سلمان کے اغوا سے متعلق تفصیلات جاننا چاہی تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرا بیٹا دس اگست کو تقریباً شام پانچ بجے گھر کے قریب سے ہی غائب ہوا۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہیں ملا، پولیس کو بتایا تو اس نے کہا ادھر ادھر ہی ہو گا واپس آ جائے گا۔ میں مزدور ہوں اور روز دیہاڑی پر جاتا ہوں، ساری رات جاگ کر اور سلمان کو ڈھونڈتے گزاری۔ اگلی صبح کام پر نہیں گیا اور پھر کام پر جا ہی نہیں سکا، صبح سے شام ہسپتال کے چکر تھانے کے چکر اسی میں وقت گزرتا رہا۔ ‘

ضلع قصور آج کل اپنے ایک قصبے چونیاں میں تین بچوں کے اغوا کے بعد ہلاکتوں کی وجہ سے سوگوار ہے

’پولیس نے سترہ اگست کو ایف آئی آر درج کی لیکن ایف آئی آر بھی بس دلاسہ ہی تھا۔ میں کہاں کہاں نہیں گیا ڈھونڈنے، کبھی پیدل کبھی سائیکل پر، کبھی کسی کی منت کر کے موٹرسائیکل ادھار پکڑا۔ ایک مہینہ ایسے ہی گزر گیا مجھے نہیں پتا میرے گھر میں کھانا کیسے بنا۔ کبھی سوچتا کام پہ جاؤں باقی بچے تو بھوکے نہ مریں، لیکن اگلے دن پھر سلمان کو ڈھونڈنے نکل جاتا۔‘
’سمجھ نہیں آتی تھی کہ بیٹے کو ڈھونڈوں یا باقیوں کو سنبھالوں‘۔ اپنی کہانی سناتے ہوئے محمد اکرم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ان کے پانچ بچے ہیں جبکہ سلمان ابھی دوسری جماعت میں پڑھتا تھا اور اس کی عمر آٹھ سال تھی۔‘
انہوں نے بتایا کہ پہلے تو ایسے لگتا تھا کہ اور افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں کہ کوئی گروپ متحرک ہے جو بچے اغوا کر کے بیچ رہا ہے۔ ایک ہفتے بعد ساتھ والے گھر سے علی حسنین شام پانچ بجے غائب ہوا تو سب ڈر گئے۔
’ہم سب کو یہی لگتا تھا کہ کوئی باہر کے لوگ ہیں لیکن اب جب فیضان، جو مولوی صاحب کا بیٹا ہے اس کے اغوا کے اگلے دن سب کی لاشیں ملیں تو اب ہمیں یقین ہے یہ کوئی ادھر کا بندہ ہی ہے جو سب کو جانتا ہے، میں مان ہی نہیں سکتا اب کہ کوئی باہر سے آ کر ایسی حرکت کرے گا۔‘

فیضان اور علی حسنین کی کہانی بھی مختلف نہیں

امام مسجد محمد رمضان اور مزدور محمد افضل کے بیٹوں کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ دونوں کی عمریں آٹھ اور نو سال جبکہ فیضان دوسری جماعت کا طالب علم اور علی حسنین اپنے باپ کے ساتھ کام پر جاتا تھا۔
فیضان کے والد محمد رمضان نے بتایا کہ’میری کسی سے کوئی دشمنی نہیں، کوئی اونچا بھی بولے تو معاف کر دیتا ہوں، میرے بیٹے کو گھر سے باہر سے ہی کسی نے پکڑا، میرا مطالبہ ہے میرے بچے کے قاتل کو گرفتار کر کے سر عام پھانسی دی جائے۔ اگر قصور والے واقعے میں زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی دی جاتی تو یہ واقعات نہ ہوتے۔‘ 
علی حسنین کی والدہ بھی اسی مسجد میں موجود تھیں اور ان کی آنکھوں کے آنسو خشک ہونے میں نہیں آ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں بڑی امید تھی ان کا بچہ زندہ مل جائے گا لیکن اب تمام امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔ ’میں نے اپنے بچے کے خون آلود کپڑے پہچان لیے ہیں۔ اب تو ہمیں بس انصاف چاہیے۔ ایک مہینہ ہو گیا ہے ہمارے گھر میں ماتم ہے نہ کھانے کا ہوش ہے نہ پینے کا، میرے بچے نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔‘

 

قصور ہی کیوں؟


حکومتی ارکان نے متاثرہ خاندانوں سے انصاف کے وعدے کیے ہیں: فوٹو اردو نیوز

ضلع قصور کے قصبے چونیاں میں لوگوں کی زبان پر ایک ہی سوال تھا کہ قصور ہی کیوں؟ بچوں کے ساتھ زیادتی یا قتل کی وارداتیں اسی ضلع میں کیوں ہوتی ہیں؟ لیکن اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ صفدر علی جو چونیاں کے رہائشی ہیں انہوں نے بتایا ’میرے اپنے چھوٹے چھوٹے تین بچے ہیں اور خوف سے نیند نہیں آتی، پتا نہیں ہمارا کیا قصور ہے۔ ہم نے ایسا کیا کر دیا ہے جو اس طرح کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
صفدر ہی نہیں ضلع قصور کے تقریباً سبھی باسی اس سوال کی وجہ سے متفکر ہیں۔ قصور شہر میں درندگی کا نشانہ بننے والی زینب کے والد امین انصاری سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ان کی بیٹی کے قاتل کو تو سزا بھی مل گئی پھر بھی اس طرح کے واقعات میں کمی ہوتی نظر کیوں نہیں آ رہی۔
ان کا یہ کہنا تھا کہ’ایک پھانسی سے کام نہیں چلے گا لگا تار ان مجرموں کو پھانسیاں ملیں اور سر عام ملیں تو لوگوں کے اندر خوف بیٹھے گا۔ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ اس کے پیچھے کوئی بڑا ہاتھ ہے یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ ‘
حکومت کو چاہیے کہ ہر پہلو سے تفتیش کرے، محض انفرادی جرم کے طور پر نہ لیا جائے۔ اگر حالات یہی رہے تو مستقبل میں بھی ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔’محکمہ پولیس کے ڈی آئی جی ذوالفقار حمید جنہوں نے قصور کے تینوں بڑے واقعات میں تحقیقات کی ہیں، نے ’اردو نیوز‘ کو بتایا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ اس طرح کے واقعات قصور میں ہوئے لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ انفرادی واقعات ہیں اور سب سے زیادہ اہم پہلو اس میں جرم کرنے والوں کی نفسیاتی اور سماجی صحت کا ہے۔

قصور میں زینب اور دیگر کمسن بچیوں سے جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کے بعد سخت قانون سازی کے مطالبات کیے جا رہے ہیں: فوٹو اے ایف پی

حالیہ واقعات کے ملزمان کو گرفتار ہونے دیں اس کے بعد صورت حال زیادہ واضح ہو گی اور اس سوال کے جواب کے بھی قریب پہنچ جائیں گے کہ قصور میں ہی یہ واقعات زیادہ کیوں ہیں۔ ان سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ موجودہ تین واقعات میں کئی قدریں مشترک ہیں جیسا کہ غریب لوگوں کے بچوں کو اٹھایا گیا اغوا ایک ہی علاقے سے اور تقریباً سبھی کو شام پانچ بجے کے بعد اٹھایا گیا یہ چیزیں کس طرف اشارہ کر رہی ہیں۔
تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بات تو واضح ہے کہ اس کے پیچھے ایک ہی شخص یا گروہ ہو سکتا ہے کیوں طریقہ واردات ایک ہے لیکن جس طریقے سے لاشوں کو ٹھکانے لگایا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجرم اناڑی ہے اور چھوٹے علاقے میں بچوں کا اغوا اس بات کی طرف اشارہ کر سکتا ہے کہ شاید ان کی بات کہیں سنی نہیں جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سارے پہلو ہمارے سامنے ہیں کچھ مشتبہ افراد کے ڈی این اے بھی لیے گئے ہیں بہت جلد صورت حال واضح ہو جائے گی۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: