ایران سے بات کر رہے ہیں مگر وہ جنگ کے خاتمے پر ڈیل کے لیے تیار نہیں: صدر ٹرمپ
28 فروری کو اسرائیلی و امریکی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے تاہم وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر تیار نہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر کچھ ہو رہا ہے، تو انہوں نے کہا کہ ’ہاں ہم ان سے بات کر رہے ہیں مگر میرے خیال میں وہ تیار نہیں، تاہم وہ اس کے قریب ضرور ہیں۔‘
تاہم انہوں نے بات چیت کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جبکہ مزید کوئی تفصیل بھی نہیں دی۔
ایران کے وزیر خارجہ اس سے قبل اس امر کی تردید کر چکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت ہو رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے کوئی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ سب سے پہلے تو کوئی یہ نہیں جانتا کہ آپ کس سے ڈیل کر رہے ہیں کیونکہ ان کی زیادہ تر قیادت تو ماری جا چکی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت درجنوں ایرانی حکام 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔
امریکی صدر نے اس امر پر بھی اصرار کیا کہ ’وہ ڈیل کرنے کے لیے بے قرار ہیں۔‘
تاہم دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
انہوں نے سی بی ایس کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ میں اتوار کو ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ’ہم کافی مستحکم اور مضبوط ہیں، ہم صرف اپنے لوگوں کا دفاع کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’ہمیں ایسی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی کہ ہمیں امریکیوں کے ساتھ بات کرنی چاہیے کیونکہ ہم ان کے ساتھ اس وقت بات کر رہے تھے جب انہوں نے ہمارے اوپر حملہ کیا۔‘
ان کے بقول ’امریکیوں سے بات چیت کرنے کا کوئی اچھا تجربہ نہیں ہے۔‘
28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے جس کا دائرہ مشرق وسطیٰ تک پھیل چکا ہے جبکہ اس کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں بہت ہلچل مچی ہوئی ہے۔