پشاور کے چڑیا گھر سے بھالُو غائب ہو گیا

ریچھ کا یہ بچہ ضلع دیر سے پشاور منتقل کیا گیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں گذشتہ سال قائم کیا گیا چڑیا گھر اکثر خبروں کی زینت بنا رہتا ہے جہاں کبھی جانور بیمار ہو جاتے ہیں اور کبھی کبھار تو مر بھی جاتے ہیں تاہم اس بار نہ تو کوئی جانور بیمار ہوا ہے اور نہ ہی ہلاک، بلکہ اس بار یہاں سے ریچھ کا ایک بچہ غائب ہو گیا ہے۔
ضلع دیر سے پشاور منتقل کیے گئے اس ریچھ کی عمر قریباً چار ماہ بتائی جاتی ہے اور یہ گذشتہ دو روز سے لاپتہ ہے جس کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا تاہم چڑیا گھر کی حفاظت پر مامور ملازمین کا کہنا ہے کہ ریچھ کا بچہ کہیں اور نہیں گیا بلکہ چڑیا گھر کے اندر ہی موجود ہے۔
2018 میں قائم کیے گیے چڑیا گھر میں چار ماہ کے ریچھ کا پنجرہ خالی پا کر دو روز قبل ملازمین کی دوڑیں لگ گئیں اور ریچھ کی تلاش شروع کر دی گئی تاہم ملازمین کے دعوے کے برعکس، دو دن کی مسلسل تلاش کے باوجود بھی یہ ریچھ تاحال نہیں مل سکا۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ ریچھ کے بچے کی گمشدگی کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب شفٹ تبدیل ہو رہی تھی۔
چڑیا گھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر نعمت اللہ نے جمعرات کی شب اس بات کی تصدیق کی کہ ریچھ کا بچہ شفٹ تبدیلی کے دوران گم ہوگیا تھا جس کی تلاش جاری ہے اور ذمہ داروں کا تعین بھی کیا جا رہا ہے۔

ملازمین کا خیال ہے کہ ریچھ کا بچہ چڑیا گھر کے اندر ہی موجود ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

تاہم واقعے کی تازہ ترین صورتحال جاننے کی خاطر بار بار کوشش کے باوجود نعمت اللہ سے رابطہ نا ہو سکا تاہم ڈائریکٹر چڑیا گھر عبدالغفور کے مطابق انہیں امید ہے کہ یہ بچہ جلد مل جائے گا۔
عبدالغفور کے مطابق ریچھ کے بچے کی گمشدگی کی خبر اس کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر دی گئی ہے کیونکہ اس کی عمر محض چار ماہ ہے لٰہذا اس سے مقامی آبادی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
’خطرہ اصل میں ریچھ کی جان کو ہے کہ کہیں عوام ڈر کے مارے اس بچے کو نقصان نہ پہنچا دیں۔‘
عبدالغفور کے بقول ’ہم نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ ریچھ کا بچہ کہیں نظر آئے تو محکمہ جنگلات یا پھر چڑیا گھر انتظامیہ کو آگاہ کر دیں۔‘

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ شاید جانوروں کی حفاظت پر مامور ملازمین سے ریچھ کے جنگلے کا دروازہ کھلا رہ گیا جس کی وجہ سے اسے بھاگنے کا موقع مل گیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ ریچھ سردیوں میں چار سے چھ ماہ ہائبرنیشن میں رہتا ہے، نا کچھ کھاتا نا پیتا ہے اور اسی وجہ سے انہیں یقین ہے کہ یہ بچہ چڑیا گھر کے اندر ہی موجود ہے۔
ہمیں شک ہے کہ ریچھ چڑیا گھر میں واقع نالے کے اندر موجود ہے جس سے نکلنے والے تمام راستوں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور ان راستوں پر خوراک کے علاوہ چونا بھی لگا دیا گیا ہے تاکہ ریچھ کے پنجوں کے نشانات مل سکیں۔‘
دوسری طرف چڑیا گھر کی انتظامیہ نے ریچھ کی گمشدگی کی رپورٹ پشاور کے تھانہ تہکال میں درج کرا دی ہے۔
تہکال پولیس کا کہنا ہے کہ کالے رنگ کے ریچھ کے بچے کی گمشدگی کا روزنامچے میں اندراج کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے علاقے میں اعلانات بھی کیے گئے ہیں۔

ریچھ کی گمشدگی کی رپورٹ تھانے میں درج کروا دی گئی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

دوسری جانب ایس ایس پی آپریشنز پشاور ظہور بابر آفریدی کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ’چڑیا گھر میں تعمیراتی کام جاری ہے اور یہاں بھاری مشینری موجود ہے لٰہذا امکان یہی ہے کہ ’ننھا بھالو مشینری یا ملبے میں چھپ گیا ہو اور بھاری مشینری کی وجہ سے ڈھونڈنے میں دشواری ہے۔‘
ظہور بابر آفریدی کے مطابق چڑیا گھر میں لگے سی سی ٹی کیمروں کی فوٹیج کا معائنہ کیا گیا ہے تاہم فوٹیج میں ننھے ریچھ کو باہر جاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے 2018 میں افتتاح کے چند ہی ہفتوں کے بعد چڑیا گھر میں ایک ہرن، ایک برفانی چیتا، ایک ضعیف العمر بندر اور متعدد پرندے مر گئے تھے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: