Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی ویزہ پالیسی میں تبدیلی سے پاکستانی شہریوں کا مستقبل غیریقینی

امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ معطل ہونے سے فیملی کی بنیاد پر درخواست دینے والے پاکستانی زیادہ پریشان ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں رہنے والے شاہد حسین اور اُن کا خاندان کئی برسوں سے امریکہ میں مستقل رہائش کے لیے اپنی درخواست تیار کرنے پر کام کر رہا تھا۔
شاہد ایک آئی ٹی پروفیشنل ہیں اور اُن کے والدین، اہلیہ اور دو بچے اس خواب کا حصہ تھے کہ وہ جلد امریکہ میں ایک ساتھ زندگی گزار سکیں۔ 
شاہد (فرضی نام) نے قریباً تین سال پہلے ملازمت کی بنیاد پر امیگرنٹ ویزہ کے لیے درخواست دی، اور خاندان کے دیگر افراد کے لیے خاندانی ویزہ حاصل کرنے کی کوشش بھی شروع کر دی۔
اُن کی زندگی کا سب کچھ اس مقصد کے گرد گھوم رہا تھا۔ بچوں کی تعلیم کی منصوبہ بندی، گھر کی فروخت، ملازمت کی منتقلی کے معاملات اور روزمرہ کے دیگر انتظامات سمیت سب کچھ امریکہ جانے کی اُمید پر کیا گیا۔
شاہد توقع کر رہے تھے کہ ویزہ جاری ہونے کے بعد وہ امریکہ میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے، لیکن اچانک امریکی حکومت کے اعلان نے اُن کا یہ خواب غیر یقینی بنا دیا۔
یاد رہے کہ امریکہ نے 14 جنوری کو پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزہ پروسیسنگ معطل کرنے کا اعلان کیا۔
شاہد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہم نے سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت کیا تھا۔ اب اچانک سب کچھ رُک گیا ہے، اور ہمیں نہیں معلوم کہ آگے کیا ہوگا۔‘
’ہم اس وقت ایسے حالات میں ہیں جب بچوں کی تعلیم، گھر کی فروخت اور دیگر منصوبے مکمل ہو چکے تھے، لیکن مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔‘
یہ خاندان پاکستان میں ہزاروں افراد کی نمائندگی کرتا ہے جو گذشتہ کئی برسوں سے امریکی ویزے کے منتظر تھے اور اب اچانک ایک غیر متوقع دھچکے سے دوچار ہوئے ہیں۔
امریکہ کی نئی ویزہ پالیسی
بین الاقوامی میڈیا اور امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق متاثرہ 75 ممالک میں پاکستان کے علاوہ صومالیہ، رُوس، مصر، عراق، یمن، ایران، افغانستان، برازیل، نائجیریا، اور تھائی لینڈ وغیرہ شامل ہیں۔
فاکس نیوز نے امریکی محکمہ خارجہ کی خط و کتابت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’امریکی سفارت خانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اِن ممالک کے شہریوں کو امیگرنٹ ویزے جاری نہ کیے جائیں۔‘

امریکہ نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزہ پروسیسنگ معطل کرنے کا اعلان کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ’غیر امیگرنٹ ویزے جیسے سیاحتی، تعلیمی اور عارضی ملازمت کے ویزے اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے، تاہم طویل مدتی رہائش کے منصوبوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘
ماہرین کی رائے
ڈائریکٹر سپیریئر کنسلٹنگ گلوبل اور امیگریشن ماہر، ابوبکر عادل نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی امیگریشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزہ پروسیسنگ کو عارضی طور پر روکا جا رہا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ پبلک چارج اور سٹیٹ بینیفٹ اسیسمنٹ کے تحت کیا گیا ہے اور یہ امیگرنٹ کیٹیگری پر لاگو ہوگا۔‘
انہوں نے وضاحت کی کہ ’یہ اقدام عارضی ہے، مستقل پابندی یا امیگریشن بندش نہیں اور نہ ہی امریکہ نے امیگریشن کا دروازہ بند کیا ہے۔ ‘
ابوبکر عادل نے ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی کہ ’یہ پالیسی وزٹ ویزہ، سٹڈی ویزہ، بزنس یا ورک ویزہ پر لاگو نہیں ہوتی، اور نہ ہی اُن کی پروسیسنگ کو روکا جا رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’امیگریشن پروگرامز جیسے ای بی 2، این آئی ڈبلیو ، ای بی 1 ، فیملی امیگریشن، انویسٹمنٹ اور روزگار پر مبنی پٹیشنز میں سب سے پہلا اور بنیادی مرحلہ یو ایس سی آئی ایس کی جانب سے پٹیشن ایویلوایشن ہے۔‘

امریکی حکام کے مطابق ’سیاحتی، تعلیمی اور عارضی ملازمت کے ویزوں کے اجرا کا عمل متاثر نہیں ہوگا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی) 

ابوبکر عادل کہتے ہیں کہ ’عام طور پر امیگریشن پروسیسنگ کا نمبر کئی ماہ یا سال بعد آتا ہے، اس لیے امیگریشن کی خواہش رکھنے والے افراد کو اپنی درخواست دینی چاہیے۔‘
ان کے مطابق ’اس کا مقصد یہ ہے کہ کیس پروسسنگ کے لیے درکار وقت گزر سکے اور اس دوران اگر پالیسی میں نرمی آئے تو اس سے اُنہیں فائدہ ہوسکتا ہے۔‘
ابوبکر عادل کا مزید کہنا ہے کہ ’امریکی امیگریشن ہمیشہ لانگ ٹرم سٹرکچر کے تحت چلتی ہے، جبکہ اس نوعیت کے فیصلے اکثر قلیل المدت سیاسی یا انتظامی نوعیت کے ہوتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ کو اب بھی ٹیلنٹ، ہائی سکل ورک فورس، ریسرچ، ہیلتھ کیئر، سائنس اور ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر ورک فورس درکار ہے، لہٰذا سیریس امیگریشن پلانرز کو اپنی اپروچ برقرار رکھنی چاہیے اور پٹیشن فائلنگ کے وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔‘
سینیئر امیگریشن کنسلٹنٹ نوید وحید نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ فیصلہ وقتی دکھائی نہیں دیتا جو پاکستانی کئی سال سے امیگرنٹ ویزے کے لیے قطار میں ہیں، ان کے کیسز یا تو رُک جائیں گے یا بہت سُست روی کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ جذباتی اور مالی دونوں لحاظ سے ایک بڑا دھچکہ ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’امیگرنٹ ویزوں کی معطلی کئی ماہ یا سال تک جاری رہ سکتی ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

امیگریشن لا سپیشلسٹ ساجد لطیف کے مطابق امریکہ کی پالیسی میں یہ رُجحان نیا نہیں، لیکن اس بار اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ پبلک چارج اصول پہلے بھی موجود تھا، مگر اب اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کے شہری زیادہ متاثر ہوں گے۔
سابق ویزہ ایڈوائزر محمد علی سانگھی نے کہا کہ ’اُن کی رائے میں یہ معطلی مستقل پابندی نہیں، لیکن اُس کی مدت غیر واضح ہے۔ درخواست گزاروں کو چاہیے کہ وہ متبادل ممالک اور قانونی راستوں پر بھی غور کریں۔‘
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ فیصلہ ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور امیگریشن کے حامی حلقوں نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے اور اسے ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔ 
دوسری جانب امریکہ کے بعض سیاسی حلقے اسے ملکی مفاد میں قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی امیگریشن پالیسی اپنی معاشی اور سماجی ضروریات کے مطابق وضع کرے۔‘
ماہرین کے مطابق موجودہ معطلی کئی ماہ یا سال تک جاری رہ سکتی ہے۔ آئندہ امریکی سیاسی حالات یا انتخابی نتائج کے ساتھ اس میں تبدیلی کے امکانات موجود ہیں۔‘

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’امیگرنٹ ویزہ کی پروسیسنگ معطل ہونے پر امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے‘ (فائل فوٹو: سکرین گریب)

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’اس دوران قانونی چیلنجز بھی سامنے آسکتے ہیں۔ پاکستان سمیت متاثرہ ممالک کے شہری ایک غیر یقینی اور طویل انتظار کی کیفیت میں ہیں۔‘
متاثرہ ممالک اور تاریخی پس منظر
یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی انتظامیہ نے بڑی تعداد میں ویزے منسوخ یا معطل کیے ہوں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ ویزے منسوخ کیے گئے۔
یہ اعدادوشمار اس بات کا عِندیہ دیتے ہیں کہ امریکی امیگریشن نظام میں سخت کنٹرول قائم ہے اور مالی و سماجی معیار کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
پاکستان پر اثرات
امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ عطل ہونے سے پاکستانی شہری، خاص طور پر فیملی کی بنیاد پر درخواست دینے والے افراد، شدید غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں۔
ملازمت کی بنیاد پر ویزہ حاصل کرنے والے پیشہ ور افراد بھی طویل انتظار اور غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ سٹوڈنٹ ویزے متاثر نہیں ہوئے، لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد مستقل رہائش کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کا موقف
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے امریکہ کی جانب سے ویزہ پروسیسنگ معطل کرنے کی پیش رفت کا نوٹس لیا ہے اور اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔‘
طاہر اندرابی نے جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران مزید بتایا کہ ’ہم امریکی حکام کے ساتھ امیگرنٹس پالیسیوں کے حوالے سے رابطے میں ہیں اور اُمید ہے کہ امریکہ جلد پاکستان کے لیے ویزے بحال کرے گا۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’امیگرنٹ ویزے کا جائزہ لینا امریکہ کی جانب سے معمول کا عمل ہے، تاہم اس معطلی سے پاکستانی شہریوں کی مستقبل کی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے۔‘
 

شیئر: