لاہور میں مینڈک کھلانے کی خبر جھوٹی

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق مینڈک کھلائے جانے کی خبر بے بنیاد ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے درالحکومت لاہور میں یہ خبر بہت زیادہ گردش کر رہی ہے کہ شہریوں کو مینڈکوں کا گوشت کھلایا جا رہا ہے۔
اور اس خبر کی بنیاد وہ پولیس ناکہ ہے جس پر لاہور میں داخلے کے وقت پولیس نے رکشے میں مردہ اور زندہ میڈکوں کی کثیر تعداد کو شہر میں داخلے سے روکا تھا۔
پولیس ناکے پر موجود اہلکار یاسین احمد کے مطابق انہوں نے ایک ایسے رکشے کو روکا جس پر مینڈکوں کی ایک بڑی تعداد شہر لے جایا جارہا تھا۔
ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ مینڈک مختلف لیبارٹریز کے لیے خریدے گئے تھے۔
تاہم اس خبر کی مکمل تصدیق سے پہلے ہی یہ خبر عام ہو گئی کہ لاہور میں گدھوں کے بعد مینڈک کا گوشت استعمال کیا جا رہا ہے۔
لاہور میں اردو نیوز کے نامہ نگار رائے شاہنواز کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے اس خبر کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ مینڈک مختلف سائنسی لیبارٹریز کے لیے خریدے گئے تھے جس کا مقصد طلبا کو آگاہی دینا تھا۔
یہ خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے دلچسپ بحث شروع ہو گئی ہے۔
سدرہ نامی صارف نے مینڈک کی ڈشز کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘آنے والے دنوں میں لاہور کے کھانے۔‘

حسام نامی صارف نے ایک کارٹون کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے مینڈکوں کی آپس میں ہونے والی ’گفتگو‘ شیئر کی جس میں ایک مینڈک دوسرے سے کہہ رہا ہے ’چل بے بی، اب لاہور ہمارے لیے محفوظ نہیں۔‘

حسنین نامی صارف نے مینڈکوں کو پولیس کی جانب سے قبضے میں لینے کی خبر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’لاہور میں مینڈکوں کا الگ سے فین بیس ہے۔‘

خان زیب نامی صارف نے پنجاب پولیس کی جانب سے تحویل میں لیے گئے مینڈکوں اور رکشے والے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’پنجاب پولیس نے ان لوگوں کو گرفتار کیا ہے جو مینڈک کھانے میں استعمال کر رہے تھے۔ لاہوریوں کو نئی ڈش مبارک۔‘

شیئر: