’تیل تنصیبات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کی جائیں‘

’’جو ملازم ہدایات کی پابندی نہیں کرے گا، اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا‘‘ (فوٹو: تواصل)
آرامکو نے اپنے تمام ملازمین کو خبردار کیا ہے کہ تیل تنصیبات سمیت حساس مقامات کی تصاویر کسی بھی صورت میں سوشل میڈیا پر شیئر نہ کی جائیں۔ خلاف ورزی پر سرزنش ہوگی۔ 
14ستمبر2019ء کو تیل تنصیبات پر تاریخ کے بھیانک ترین حملوں کے بعد سعودی آرامکو نے حفاظتی تدابیر میں ایک اور اضافہ کیا ہے۔ 
الشرق الاوسط کے مطابق  سعودی آرامکو نے اپنے باقاعدہ ملازمین اور آرامکو کے لیے کام کرنے والے دیگر کارکنان کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی ہے کہ عام طور پر کوئی بھی ملازم کسی ممنوعہ مقام پر ڈیوٹی دے رہا ہوتا ہے یا کسی زیر تعمیر پروجیکٹ پر کام کررہا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں وہ اپنے رشتہ داروں یا دوست احباب کو یہ اطلاع دینے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا کہ وہ فلاں جگہ کام کررہا ہے بعض اوقات اس جگہ کی لوکیشن، وڈیو کلپ یا فوٹو بھی بھیج دیتا ہے۔

ملازمین کو خبردار کیا کیا ہے کہ حساس مقامات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کی جائیں (فوٹو: تواصل)

آرامکو نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حالت میں ڈیوٹی کےکسی بھی مقام کی نشاندہی نہ کی جائے نہ توتحریری طور پر کسی کو اس کی اطلاع دی جائے اور نہ ہی اس جگہ کی تصویر کسی کے ساتھ شیئر کی جائے اور نہ ہی اس جگہ کی وڈیو کلپ کسی بھی شخص یا ادارے کو بھیجا جائے۔ 
آرامکو نے خبردار کیا ہے کہ جو ملازم اس کی پابندی نہیں کرے گا، اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسی سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ ابقیق اور خریص میں ڈرونز اور کروز میزائل کے حملوں نے آرامکو انتظامیہ کو مزید چوکس کردیا ہے۔ 14ستمبر کو ہونے والے حملوں سے دونوں مقامات کی تیل تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا تھا۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: