اہل خانہ کی فیس ادا نہ کرنے پر وطن واپس کیسے جائیں؟

فیملی فیس اقامہ تجدید کے وقت جمع کروانا لازمی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
سعودی عرب میں 2017  سے تارکین وطن کے اہل خانہ (مرافقین) پر ماہانہ کی بنیادوں پر فیس عائد کی گئی ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں غیر ملکیوں نے اپنے اہل و عیال کو وطن واپس بھیج دیا ہے۔
فیس کا آغاز 100 ریال ماہانہ سے کیا گیا تھا جس میں ہر برس 100 ریال ماہانہ اضافہ کیا جاتا ہے۔
اس فیس کا قانون جولائی 2020 تک کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔ اس حساب سے جولائی 2020 میں تارکین کے  اہل خانہ پر عائد فیس فی فرد 400 ریال ماہانہ ہو جائے گی۔
اس فیس میں تارک وطن کی اہلیہ یا شوہر، بچے، والدین جنہیں مرافقین کہا جاتا ہے شامل ہیں۔ اس حساب سے اگر ایک شخص کے تین بچے اور ایک اہلیہ ہے تو اسے ماہانہ 1600 ریال ادا کرنا پڑیں گے جوکہ سال میں 19 ہزار دو سو ریال بنتے ہیں۔
یہ رقم اقامہ تجدید کے وقت جمع کرانا لازمی ہوتا ہے۔

خروج نہائی لگانے کے بعد تارکین قانونی طور پر 60 دن مملکت میں قیام کر سکتے ہیں۔ تواصل

متعلقہ اداروں کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے وضاحت نہیں کی گئی کہ 2020کے بعد فیس کا تناسب کیا ہوگا اور آیا یہ برقرار رہے گی یا ختم ہو جائے گی ؟
سعودی محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کا کہنا ہے کہ متعلقہ وزارت کی جانب سے تارکین کے اہل خانہ کی فیسوں کے بارے میں کوئی سرکلر جاری نہیں ہوا اس لیے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی باتوں پر توجہ نہ دی جائے۔
ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر فیس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ ہو گا تو اسے اخبارات میں شائع کیا جائے گا۔
تارکین کے اہل خانہ پر عائد کی جانے والی فیسوں کے بعد سے اکثر افراد یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر وہ ماہانہ فیس ادا نہ کر سکیں تو کیا وہ اپنے اہل خانہ کو مستقل طور پر واپس اپنے وطن بھیج سکتے ہیں؟
سعودی قانون کے مطابق تارکین وطن کے لیے مملکت میں قانونی طور پر رہنے کے لیے کار آمد اقامہ ہونا لازمی ہے۔ اقامے کی مدت ختم ہو جائے تو سسٹم میں اقامہ ہولڈر کا اکاؤنٹ سیز کر دیا جاتا ہے جس کے بعد اس کا کوئی سرکاری کام نہیں ہو سکتا۔ ایسے افراد مملکت میں غیر قانونی مقیم شمار کیے جاتے ہیں۔

اہل خانہ کی فیس ایک برس کے حساب سے لی جاتی ہے۔ فوٹو: ٹویٹر

 
اقامے کی مدت ختم ہونے پر یہ ممکن نہیں کہ کوئی بھی اپنے زیر کفالت اہل خانہ کا فائنل ایگزٹ (خروج نہائی) لگا سکے۔ ایگزٹ ویزہ لگانے کے لیے اقامے کا کارآمد ہونا لازمی امر ہے۔ 
اقامہ تجدید کرانے کے لیے پوری مدت کی فیس جمع کرانا پڑے گی جس کے بغیر سسٹم میں اقامہ ہولڈر کا اکاؤنٹ فعال نہیں ہو سکے گا۔ مدت سے مراد ایک ہجری سال ہے کیونکہ سعودی عرب میں تمام سرکاری معاملات ہجری سال سے طے کئے جاتے ہیں۔
اقامے کی تاریخ تجدید اور انتہاء کے حساب سے تارکین کے اہل خانہ پر عائد کی جانے والی ماہانہ فیس ایک برس کے حساب سے لی جاتی ہے۔
 ایسے افراد جو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مملکت میں مقیم ہیں ان کی جانب سے اکثر یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ وہ آئندہ برس کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں اس لیے مملکت میں اپنا قیام قانونی بنانے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے؟
ایسے افراد جو مملکت میں برسر روزگا ر ہیں اور نہیں چاہتے کہ وہ مملکت سے جائیں مگر اہل خانہ کی فیس کی وجہ سے انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ اہل خانہ کی فیس ادا نہیں کرتے تو ان کے اقامے کی تجدید نہیں ہو گی جس سے ان کا اور ان کے اہل خانہ کا سٹیٹس غیر قانونی تارکین کا ہو جائے گا۔

اقامے کی تجدید میں دوسری بار تاخیر پر جرمانے کی رقم دوگنا ہو جاتی ہے۔

ایسے افراد جو اپنے زیر کفالت اہل خانہ کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے انہیں چاہیے کہ وہ اگر اپنے گھر والوں کو مستقل طور پر وطن بھیجنا چاہتے ہیں تو وہ اقامے کی مدت ختم ہونے سے چند دن قبل گھر والوں کا فائنل ایگزٹ ویزہ  (خروج نہائی) سٹمپ کروا لیں۔ 
خروج نہائی لگانے کے بعد قانونی طور پر وہ 60 دن مملکت میں قیام کر سکتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ 59 ویں دن تک مملکت سے نکل جائیں بصورت دیگر ان کا مملکت میں قیام غیر قانونی ہو گا۔
اس صورت میں ان پر ماہانہ کی بنیاد پر عائد کی جانے والی فیس بھی نافذ ہو گی اور انہیں ایگزٹ ویزہ کینسل کرانے کا جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ 
اہل خانہ کے ویزے کے نوعیت انفرادی ہوتی ہے وہ اپنے سربراہ کے اقامے میں درج ہوتے ہیں اس لیے جب تک وہ مملکت سے نکل نہیں جاتے یعنی خروج نہائی ویزہ حاصل کرنے کے 60 دن کے اندر، اس وقت تک گھر کے سربراہ کا اقامہ تجدید نہیں ہو سکتا۔ 
اہل خانہ کو رخصت کرنے کے بعد سربراہ کے اقامے کی تجدید ممکن ہو سکے گی تاہم اس پر 500 ریال جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ اقامے کی تجدید میں دوسری بار تاخیر پر جرمانے کی رقم دوگنا ہو جاتی ہے جبکہ تیسری بار اقامہ ہولڈر کو ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔ 

شیئر: