’اب یو این کے نمائندوں سے مذاکرات کریں گے‘

جے کے ایل ایف نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے شہریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مارچ کی کال دی ہے۔ فوٹو: ٹوئٹر
’جموں اور کشمیر لبریشن فرنٹ‘ (جے کے ایل ایف) کا کنٹرول لائن عبور کرنے کے لیے مارچ اتوار کی شام سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے چناری میں موجود ہیں۔ پاکستان کے انتظام کشمیر کی حکومت نے شرکا سے مذاکرات کی کوشش کی ہے تاکہ ان کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے تاہم مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔
جے کے ایل ایف کے عہدیداروں نے پیر کو چناری میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم کسی حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے بلکہ اب ہم اقوام متحدہ کے نمائندوں اور سکیورٹی کونسل کے نمائندوں سے مذاکرات کریں گے وگرنہ ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’حکومت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندے اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے نمائندوں کو یہاں لائے۔ ہم ان کے سامنے اپنے مطالبات پیش کریں گے۔‘
پریس کانفرنس میں تنظیم نے مطالبہ کیا کہ ’حکومت ہمیں سرینگر تک جانے کے لیے راستہ دے وگرنہ یہاں شاہراہ سرینگر پر ہمارا دھرنا غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔‘

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ چناری میں دھرنا جاری رکھیں گے۔ فوٹو: ٹویٹر

اس سے قبل پیر کو جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے ترجمان رفیق ڈار نے اردو نیوز کو بتایا تھا کہ وہ ہر صورت ایل او سی کی جانب جانا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اتوار کو مقامی انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کیے گئے تھے اور اب پیر کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے وزراء مذاکرات کے لیے پہنچیں گے لیکن ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ حکومت رکاؤٹیں ہٹائے تاکہ وہ ایل او سی پر جا سکیں۔
دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی انتظامیہ نے مارچ کے شرکا کو لائن آف کنٹرول کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے چناری سے دو کلو میٹر آگے رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی ہیں اور مارچ کے شرکا کو لائن آف کنٹرول کی طرف جانے سے روکنے کے انتظامات کیے ہوئے ہیں۔
اتوار کو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ترجمان رفیق ڈار نے اردو نیوز کے نامہ نگار زبیر علی خان کو بتایا تھا کہ ’ہم انتظامیہ سے رکاوٹیں ہٹانے کے لیے بات چیت کریں گے اور ہر صورت لائن آف کنٹرول کی جانب مارچ جاری رکھیں گے۔‘ انہوں نے بتایا کہ جب تک رکاوٹیں دور نہیں کی جاتی وہ سڑک پر دھرنا دیں گے۔

’لائن آف کنٹرول پار کرنا انڈین بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہوگا۔‘ فوٹو اردو نیوز

واضح رہے کہ جموں اور کشمیر لبریشن فرنٹ نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کنٹرول لائن عبور کرنے کی کال دے رکھی ہے۔
جمعے کو شروع ہونے والا مارچ ضلع بھمبر، راولاکوٹ اور مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا سنیچر کی شب مظفرآباد پہنچا اور وہاں سے چکوٹھی چیک پوائنٹ کی جانب بڑھ رہا ہے۔
ادھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہم مظاہرین کو کسی صورت لائن آف کنٹرول کی طرف جانے نہیں دے سکتے۔‘
ان کے بقول ’ہم نے ان (جے کے ایل ایف) کو کہا تھا کہ یہ مارچ شروع ہی نہ کریں لیکن انہوں نے کہا کہ ہم نے کال دے دی ہے اب ہم لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ ضرور کریں گے۔
مشتاق منہاس نے مزید کہا کہ ’یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نہتے لوگوں کو لائن آف کنٹرول جانے سے روکیں اور ہم ایک مخصوص علاقے سے آگے ان کو جانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ چناری تک مارچ کے شرکا کو جانے کی اجازت ہوگی اس سے آگے ہم نے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔
تاہم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ترجمان رفیق ڈار کا کہنا ہے کہ اگر رکاوٹیں دور نہ کی گئیں وہ ہم سڑک پر دھرنا دیں گے اور انتظامیہ سے مطالبہ کریں گے کہ روکاوٹوں کو دور کیا جائے اور پر امن طریقے سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے باشندوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے لائن اف کنٹرول کی طرف جانے دیا جائے۔

 مشتاق منہاس کے مطابق مارچ کے شرکا کو روکنے کے لیے چناری سے دو کلومیٹر آگے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ فوٹو اردو نیوز

مشتاق منہاس نے بتایا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ پر امن طریقے سے یہ معاملہ حل ہو۔ وہ نہتے لوگ ہیں اور ایک اچھے مقصد کے لیے مارچ کر رہے ہیں ان کے کوئی ذاتی مقاصد نہیں ہیں لیکن ان کی جان و مال کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اس ذمہ داری کو پوری کریں گے۔
وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے بتایا کہ مارچ کے شرکا کو روکنے کے لیے چناری سے دو کلومیٹر آگے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور بھاری نفری بھی تعینات ہے۔ 600 سے زائد پولیس اہلکار اس وقت مارچ کے شرکا کو روکنے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ سنیچر کے روز پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کے ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغامات میں کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول پار کرنا انڈین بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلینے کے مترادف ہوگا۔
 
جموں کشمیر لبریش فرنٹ نے پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں کے مارچ کے حوالے سے بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مارچ سے انڈین حکومت کا کوئی تعلق ہے نہ ہی پاکستان کی حکومت کا اس میں کوئی کردار ہے۔
رفیق ڈار کے بقول ’یہ مارچ ہمارا خود مختار اور آزاد فیصلہ ہے، ہمیں کسی سے (دونوں حکومتوں) بھی سرٹیفیکیٹس لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
دوسری طرف پاکستان کے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اتوار کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مارچ کے شرکا سے درخواست کی ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول عبور نہ کریں ایسا کرنے کا مطلب ایک نئے ’وار زون‘ میں داخل ہونا ہوگا۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: