سعودی عرب: پہلی مرتبہ واٹس ایپ گروپ ایڈمن پر مقدمہ

عدالت نے ایڈمن کو مقررہ تاریخ بلانے کا نوٹس جاری کردیا (فوٹو: سیدتی)
سعودی عرب میں پہلی مرتبہ واٹس ایپ گروپ کے ایک ایڈمن کوعدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
العربیہ نیٹ میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق ہوا یوں کہ واٹس ایپ پر خواتین کے ایک گروپ کی ایڈمن نے نئے ممبر کی شمولیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں انوکھے انداز میں ویلکم کہنا چاہا مگر نئی ممبر نے اسے بے عزتی سمجھ کر گروپ ایڈمن کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔
گروپ میں شامل ہونے والی ممبر کا نام ’’حصہ‘‘ تھا۔ ایڈمن نے ان کی شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے لکھا ’’اب حصیصہ بھی آگئی ہیں‘‘۔ 
عربوں کے ہاں بھی یہ رواج ہے جس طرح پاکستان میں ہے کہ ناموں کو پیار سے بگاڑ دیتے ہیں۔ اسی طرح ’’حصہ‘‘ کو پیار سے ’’حصیصہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ 

سائبر کرائم قوانین کے مطابق گروپ میں ہونے والی خلاف ورزی کا ذمہ دار ایڈمن ہے

گروپ میں شامل ہونے والی ممبر کو ایڈمن کی طرف سے پیار بھرا انداز اچھا نہیں لگا۔ انہوں نے اسے بے عزتی تصور کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا جس نے ایڈمن کو مقررہ تاریخ پر بلانے کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ 
واضح رہے کہ سعودی عرب میں سائبر قوانین کے مطابق واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا کے تمام ذرائع میں اکاؤنٹ ہولڈر اپنے اکاؤنٹ میں جاری ہونے والے تمام مواد کا ذمہ دار ہے۔ 
سائبر کرائم قوانین کے مطابق واٹس گروپ میں ہونے والی خلاف ورزی کا ذمہ دار گروپ ایڈمن ہے جس کے خلاف قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔ 
گروپ ایڈمن خاتون کے خلاف مقدمہ دائر کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے سعودی قانونی مشیر حمد الرزین نے کہا ہے کہ ’’سوشل میڈیا میں استعمال کئے جانے والے الفاظ اور ایموجی جرم ثابت کرنے کے ذرائع بن گئے ہیں‘‘۔ 
انہوں نے بتایا ہے کہ ’’عدالت دائر ہونے والے ہر مقدمے کے ساتھ قانونی معاملہ کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض مقدمات سے عدالت کا وقت ضائع ہوتا ہے‘‘۔ 
ان کا کہنا ہے کہ ’’جن مقدمات میں عدالت کا وقت ضائع ہوتا ہے ان میں کیس دائر کرنے والوں پر فیس عائد کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ 
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: