عرعر کی روایتی مارکیٹ سعودی خواتین کے لیے ’ایک اہم معاشی پلیٹ فارم‘
سعودی عرب میں عرعر کی روایتی مارکیٹ حدودِ شمالیہ کے علاقے میں سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی نشانِ امتیاز کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
12 برس سے یہ مارکیٹ خواتین کے ہاتھوں سے بنائے ہوئے فن پاروں اور دستکاری کی دیگر اشیا کو لوگوں کے سامنے لانے کے ایک مستقل پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہی ہے۔
اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کس طرح مقامی میراث اور مہارتیں، نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آئی ہیں۔
اس کام میں درجنوں خواتین سال کے 12 مہینے شریک رہتی ہیں اور آنے والوں کو ہاتھوں سے بنی ہوئی پروڈکٹس پیش کرتی ہیں جن میں السدُو بُنائی، گھی، سلائی کڑھائی، اون کے ذریعے ہنر کا اظہار، پرفیوم اور دیگر بخورات، اور روایتی ڈشیں شامل ہیں جو مقامی ماحول اور کھانے پکانے کے ورثے کو نمایاں کرتی ہیں۔

ایس پی اے کے مطابق السدو، علاقائی ثقافتی ورثہ ہے جو بھیڑ کی اون، اونٹ اور بکری کے بالوں سے دھاگے تیار کیے جاتے ہیں جن سے مختلف اشیا کی بنائی کی جاتی ہیں۔
السمن (خالص گھی) یا دیسی گھی جس کے بغیر اہل بادیہ نہیں رہ سکتے، آج بھی خالص گھی کی بہت ڈیمانڈ ہے اور اس کی تیاری میں کافی محنت لگتی ہے۔
علاقے کی خواتین السدو و السمن کی تیاری میں ہی خاص مہارت نہیں رکھتیں بلکہ اون سے بنائے گئے علاقائی ملبوسات اور خوشبو کے لیے مقامی بخور کی تیاری میں بھی انہیں کمال حاصل ہے۔

اختتامِ ہفتہ ہو یا قومی تہوار یا پھر میراث کی نمائش کا موسم، مارکیٹ میں کافی رش ہوتا ہے اور یہ گھریلو صنعتوں میں کام کرنے والے خاندانوں کے لیے ایک اہم معاشی پلیٹ فارم بن جاتی ہے۔
مارکیٹ میں مقامی فنکاروں کی بنائی ہوئی چیزوں کی نمائش ہوتی ہے، خواتین میں اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور مملکت کے ورثے کی مستند اشیا کی طلب میں اضافے کی وجہ سے آمدن کے پائیدار مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

اس مارکیٹ میں 44 دکانیں ہیں جنھیں روایتی فنِ تعمیر کے سٹائل میں ڈیزائن کیا گیا ہے جس پر شمالی خطے کے ماحول کا رنگ غالب ہے۔
مارکیٹ سپروائزر نامیہ العنزی کا کہنا ہے کہ ’یہ جگہ تجارتی اشیا تیار کرنے والے دستکاروں اور کھانا پکانا سیکھنے کی خواہش مند خواتین کو مفت تربیت، انھیں مالی امور سے متعلق بنیادی تعلیم، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ذاتی ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔‘
