اہم سعودی ادبی شخصیات کا تعارف ’رائٹرز اور ریڈرز‘ فیسٹیول میں شامل
فیسٹیول میں کھلے آرٹ پینلوں پر فنکارانہ کام بھی بھر پور توجہ حاصل کر رہا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
طائف میں جاری ’رائٹرز اور ریڈرز‘ فیسٹیول میں ایک خصوصی سیکشن قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد سعودی عرب کی اہم ادبی شخصیات کو لوگوں سے متعارف کرانا ہے۔
اس سیکشن میں ان ممتاز مصنفوں، شعرا اور لکھاریوں کی زندگیوں پر روشنی ڈالی جائے گی جنھوں نے مملکت کے تخلیقی منظر نامے، ادب، صحافت، تھیئٹر اور فکر کو کسی بھی طرح متاثر کیا یا اس کی تشکیل میں کوئی کردار ادا کیا۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ سیکشن فیسٹیول میں شریک ہونے والوں کو بصری اور بیان کے دستیاب مواد کے ذریعے، ادب کے پیش روؤں کی خدمات سے متعارف کرائے گا۔
ادب، ترجمے اور اشاعت کے کمیشن کی جانب سے منظم کیا گیا یہ فیسٹیول 15 جنوری تک جاری رہے گا جس میں سعودی عرب اور دیگر ممالک کے 42 مشہور اشاعتی ادارے حصہ لے رہے ہیں۔

اس فیسٹیول میں آنے والوں کو ادب، فلسلفے اور معلوماتِ عامہ کے شعبوں میں، زمانۂ موجود میں ہونے والے کام کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملے گا۔
علاوہ ازیں فیسٹیول کا انٹرایکٹیو میُورل کا سیکشن، (مِیُورل دیواروں پر بنائے گئے آرٹ ورک کو کہتے ہیں) کھلے آرٹ پینلوں پر فنکارانہ کام کی وجہ سے بھر پور توجہ حاصل کر رہا ہے۔

میورل کو دیکھنے کے لیے آنے والوں کو موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ شہر کی خصوصیات اور شناخت میں اپنی تخلیقی کاوشیں جاری رکھیں۔
یہ میُورلز طائف کے قدرتی اور تاریخی سنگ ہائے مِیل کو بیان کرتے ہیں جن میں الھدا کا پہاڑ، طائف کے گلابوں کے باغ اور روایتی حجازی محل شامل ہیں۔

دیگر میُورلز میں سُوقِ عکاظ سے متاثر ہو کر کام کیا گیا ہے جو علاقے میں شاعری کی میراث سے متعلق ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی، ادبی اور تجارتی مرکز بھی ہے۔
ایک وژوئل فنکار کے ڈیزائن کردہ یہ میورلز، لوک کہانیوں سے متاثر عناصر کو، تخیلاتی اظہار کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں جس سے دیکھنے والوں کے سامنے ایک مربوط منظر آ جاتا ہے جو شہر کی خوبصورتی کی خوشی بھی منا رہا ہوتا ہے اور آرٹ کو عوام کے قریب تر بھی لے آتا ہے۔
