ترکی کی کارروائی، شام میں 60 ہزار بے گھر

ترکی نے شام میں 181 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، فوٹو: اے ایف پی
ترکی کی شمال مشرقی شام میں فوجی کاروائی کے نتیجے میں 60،000 سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔  
شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم ’سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ نے جمعرات کو کہا ہے کہ شام کے سرحدی علاقوں سے بڑی تعداد میں مکین دوسرے شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق تین سرحدی علاقوں راس العین، تل ابیض اور درباسیہ سے بڑی تعداد میں مقیم گھروں کو چھوڑ کر دوسرے شہروں میں پناہ تلاش کر رہے ہیں، ان میں سے اکثر نے مشرقی شہر حسکہ کا رخ کیا ہے۔  
اس سے قبل ترکی نے شام کے شمال مشرق میں جاری آپریشن کے دوران طے شدہ اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
ترک وزارت دفاع کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق ترک جنگی جہاز اور توپ خانے دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر 181 اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق وزارت دفاع نے کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی کے حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دیں، تاہم حملے کی مختصر ویڈیو شیئر کی ہے۔
وزیر دفاع نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ترک زمینی فوجیں کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی کی غرض سے شمالی شام کی طرف مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ 
واضح رہے کہ ترکی نے شام کی شمال مشرقی سرحد پر فوجی کارروائی بدھ کو شروع کی تھی جس کا باقاعدہ اعلان ترک صدر طیب اردوغان نے ٹویٹ میں کیا تھا۔
اس سے پہلے جمعرات کو امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ امریکہ نے ترک افواج کی شام پر حملہ کرنے کی حمایت نہیں کی جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی ترکی کے فوجی آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کی طرف سے کیا جانے والا آپریشن شام کی سرزمین کی وحدت اور خود مختاری پر تجاوز ہے۔
ترکی نے امریکی فوجوں کے شام کی شمال مشرقی سرحدوں سے انخلا کے فوری بعد حملے کی تیاری شروع کر دی تھی۔
شام کی شمال مشرقی سرحدی علاقوں میں کرد ملیشیا کی اکثریت ہے، جو داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اتحادی رہ چکے ہیں۔ 
فرانس کے وزارت خارجہ نے بھی جمعرات کو ترکی کے سفیر اسماعیل حکی موسیٰ کو طلب کیا اور ترکی کے کرد ملیشیا کے خلاف فوجی کاروائی پر فرانس کا احتجاج ریکارڈ کروایا۔
ترکی کے فرانس میں سفیر نے اے ایف پی کو وزارت خارجہ میں طلبی کے حوالے سے تصدیق کی ہے۔
 

ترک وزارت دفاع کے مطابق ترک زمینی فوجیں کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی کی غرض سے شمالی شام کی طرف مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ فوٹو اے ایف پی

ترکی کے شام میں موجود کرد ملیشیا پر حملے کے اقدام پر عالمی برادری نے تنقید کی ہے اور عرب لیگ نے سنیچر کو وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق لیگ کے سیکریٹری جنرل کے معاون سفیر حسام زکی نے کہا کہ ’جمہوریہ مصر کی درخواست پر شمالی شام کے علاقے میں ترکی کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کے حوالے سے وزرا خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔‘ 
وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا کہ ترکی کی طرف سے کیا جانے والا آپریشن شام کی سرزمین کی وحدت اور خود مختاری پر تجاوز ہے۔
برطانیہ نے بھی ترکی کو احتیاط برتنے کا کہا ہے۔ برطانوی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ انہوں نے ترک حکومت کو شام میں فوجی کاروائی پر اپنی مایوسی اور تشویش سے آگاہ کیا ہے۔
ترکی کے مطابق وہ شام کے ساتھ جنوبی سرحد پر ’سیف زون‘ بنانا چاہتا ہے تاکہ کرد ملیشیا کی سرحد پر موجودگی کو ناممکن بنایا جائے، اور 20 لاکھ شامی مہاجرین وطن واپس جا سکیں۔ 
 

شیئر: