خاتون کی نازیبا ویڈیوز بنانے والا گرفتار

فیض اللہ کوریجو کے مطابق ملزم متاثرہ خاتون کو چھ سال سے زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا۔ فوٹو سوشل میڈیا
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم سرکل نے کراچی میں کاروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کیا جن پر خاتون کو جنسی ہراساں، نازیبا ویڈیوز بنانے اور الیکٹرک شاک دینے کا الزام ہے۔
جمعرات کو ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا ہے کہ گرفتار ملزم علی خود کو حساس ادارے کا اہلکار ظاہر کرتا تھا اور اس کا تعلق بااثر گھرانے سے ہے۔
گرفتار ملزم علی شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ ہے، اس نے متاثرہ لڑکی کی فیک آئی ڈی بنا کر اس کے رشتے داروں کو ایڈ کیا تھا جہاں وہ اس کی غیر اخلاقی تصاویر شیئر کرتا تھا۔

ملزم کے خلاف سائبر قوانین کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ فوٹو سوشل میڈیا

ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر فیض اللہ کوریجو نے اردو نیوز کو بتایا ملزم علی متاثرہ خاتون کو چھ سال سے زیادتی کا نشانہ بنا اور بلیک میل کر رہا تھا۔ متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق علی نے خاتون پر تشدد کرتے ہوئے اس کے بال اور بھنویں مونڈ دی تھیں اور ٹیزر گن سے اسے کرنٹ کے جھٹکے بھی دیتا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزم لڑکی کو ملاقات کے لیے بلیک میل کرتا تھا اور انکار کی صورت میں اس کے باپ کو قتل کرنے کی دھمکی دیتا تھا۔
فیض اللہ نے بتایا کہ دو روز قبل متاثرہ خاتون نے درخواست دی۔ ’ان کی جانب سے ہراسگی کے شواہد کی فراہمی کے بعد ملزم کے خلاف تحقیقات کا آغاز شروع کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی گرفتاری عمل میں آئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کا طریقہ کار پولیس سے مختلف ہے۔ ’اس میں پہلے تفتیش کی جاتی ہے اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔‘
ملزم کے خلاف سائبر قوانین کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جس کا نمبر 22/2019 ہے۔
 
ایف آئی کے مطابق گرفتار ملزم کے قبضے سے 2 موبائل فون اور میموری کارڈ ملا ہے جس میں کئی لڑکیوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز بھی ملی ہیں۔
فیض اللہ نے بتایا کے گرفتار ملزم اس قسم کے جرائم کا عادی معلوم ہوتا ہے۔ ’اب تک کی معلومات کے مطابق اس کا تعلق کسی منظم گروہ سے نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کے اگر دیگر متاثرہ خواتین ایف آئی اے سے رابطہ کرلیں تو شواہد کی روشنی میں ملزم کے خلاف تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرلیا جائے گا۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: