Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی میں بچوں کی حاضر دماغی نے کار چوروں کو کیسے گرفتار کروایا؟

کراچی میں ہر ماہ گاڑی چوری کے کئی واقعات رپورٹ ہوتے ہیں: فائل فوٹو اے ایف پی
کراچی کے علاقے صدر سے تین بچوں سمیت چوری کی گئی گاڑی بچوں کی حاضر دماغی کی وجہ سے چند ہی منٹوں میں برآمد کرلی گئی اور دو ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق گاڑی کی پچھلی نشست پر تین کمسن بچے موجود تھے۔ تاہم چند منٹ بعد نمائش چورنگی کے قریب بچوں کی حاضر دماغی اور ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہلکار کی بروقت توجہ کے باعث ملزموں کو گرفتار کر لیا  گیا۔
پولیس کا کہنا ہے واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک خاتون اپنے شوہر کے ساتھ صدر کے ایک بازار میں خریداری کر رہی تھیں۔
ان کی گاڑی سڑک کنارے کھڑی تھی جبکہ ان کے تین بچے گاڑی کی عقبی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق اس دوران دو ملزموں نے موقع دیکھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے رفوچکر ہو گئے۔
ایس ایس پی ایسٹ پولیس کے ترجمان نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’کراچی کے مصروف تجارتی علاقوں میں اس نوعیت کی وارداتیں نئی نہیں ہیں۔ بازاروں اور شاپنگ ایریاز کے باہر کھڑی گاڑیاں اکثر جرائم پیشہ افراد کے لیے آسان ہدف بن جاتی ہیں۔ تاہم اس واقعے کو غیر معمولی بنانے والی بات گاڑی میں موجود بچے تھے جن کی وجہ سے صورتِ حال زیادہ سنگین رُخ اختیار کر گئی۔‘
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ملزموں کو ابتدا میں اس بات کا علم نہیں تھا کہ گاڑی کے اندر بچے موجود ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’ملزم گاڑی چوری کر کے صدر کے علاقے سے نکلے اور چند ہی منٹوں میں نمائش چورنگی کی طرف بڑھنے لگے۔‘
نمائش چورنگی کراچی کے ان چند چوراہوں میں شامل ہے جہاں دن کے بیشتر اوقات میں ٹریفک اور لوگوں کا غیر معمولی رَش رہتا ہے۔ پولیس کے مطابق اسی رَش نے اس واردات کا رُخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’گاڑی جب نمائش چورنگی کے قریب پہنچی تو بچوں کو اندازہ ہوا کہ گاڑی میں نامعلوم افراد سوار ہیں تو انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا اور لوگوں اور پولیس اہل کاروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کرنے لگے۔‘
پولیس کے مطابق نمائش چورنگی پر ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہل کار کو گاڑی کے اندر ہونے والی ہلچل اور بچوں کے شور کی وجہ سے صورتِ حال مشکوک محسوس ہوئی۔ اس دوران ملزموں نے گاڑی ایک طرف روک کر بچوں کو اتانے کی کوشش شروع کر دی۔
پولیس اہل کار نے یہ دیکھا تو فوری طور پر مداخلت کی اور دونوں افراد کو ایسا کرنے سے روکا۔ اس دوران شہری بھی وہاں جمع ہونا شروع ہو گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق لوگوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ گاڑی چوری کی گئی تھی اور اس میں بچے بھی سوار تھے تو صورتِ حال اچانک کشیدہ ہو گئی اور کچھ شہری ملزموں کو تشدد کا نشانہ بنانے لگے۔
پولیس نے مداخلت کر کے دونوں ملزموں کو شہریوں کے تشدد سے بچاتے ہوئے حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں انہیں زخمی حالت میں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ بچوں کو بحفاظت ان کے والدین کے حوالے کر دیا گیا۔

حکام کے مطابق چوری ہونے والی کئی گاڑیاں بعد میں بلوچستان یا خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے برآمد ہوتی ہیں: فائل فوٹو اے ایف پی

چوری کی یہ واردات اگرچہ چند منٹوں میں اپنے انجام کو پہنچی تاہم اس نے کراچی میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔
سی پی ایل سی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے دو ماہ (جنوری اور فروری) میں شہری مجموعی طور 7 ہزار سے زائد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے محروم ہوگئے۔
سی پی ایل سی کے مطابق گزشتہ ماہ فروری میں شہر کے مختلف علاقوں سے کار و موٹر سائیکل لفٹرز نے شہریوں سے 22 گاڑیاں اور 452 موٹر سائیکلیں چھین لیں جب کہ 143گاڑیاں اور دو ہزار 726 موٹر سائیکلیں چوری کرلی گئیں۔
پولیس حکام کے مطابق اس نوعیت کی وارداتوں میں عموماً موٹرسائیکلیں چوری کی جاتی ہیں کیونکہ یہ نسبتاً آسان ہدف ہوتی ہیں۔ تاہم کار چوری کے واقعات بھی مکمل طور پر کم نہیں ہوئے۔
پولیس کے ایک سینیئر افسر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’شہر میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوری کی وارداتوں میں اکثر منظم اور بین الاصوبائی جرائم پیشہ گروہ ملوث ہوتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ان گروہوں کے ارکان مختلف شہروں اور صوبوں میں موجود ہوتے ہیں اور ایک مربوط نیٹ ورک کے تحت کام کرتے ہیں۔ ایک گروہ گاڑیاں چوری کرتا ہے، دوسرا انہیں شہر سے باہر منتقل کرتا ہے جبکہ تیسرا انہیں فروخت کرنے یا ان کے پرزے نکالنے کا کام کرتا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’کراچی سے چوری ہونے والی کئی گاڑیاں بعد میں بلوچستان یا خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے برآمد ہوتی ہیں۔ بعض کیسز میں گاڑیاں افغانستان کے سرحدی علاقوں تک بھی پہنچ جاتی ہیں۔‘
پولیس کے مطابق اس عمل میں جعلی دستاویزات کا استعمال بھی عام ہے۔ چوری شدہ گاڑیوں کے لیے جعلی کاغذات تیار کیے جاتے ہیں اور انہیں دوسرے شہروں میں فروخت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق لوگوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ گاڑی چوری کی گئی تھی اور اس میں بچے بھی سوار تھے تو صورتِ حال اچانک کشیدہ ہو گئی: فائل فوٹو اے ایف پی

بعض اوقات گاڑیوں کو مکمل طور پر فروخت کرنے کی بجائے انہیں پرزہ جات میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اس طریقۂ کار کے تحت گاڑی کو مختلف حصوں میں الگ کر کے فروخت کیا جاتا ہے جس سے اس کا سراغ لگانا مزید مشکل  ہو جاتا ہے۔ موٹر سائیکلوں کے معاملے میں بھی یہی طریقۂ کار استعمال کیا جاتی ہے۔ چوری شدہ موٹر سائیکلیں اکثر اندرونِ سندھ یا بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں منتقل کر دی جاتی ہیں جہاں انہیں نئی نمبر پلیٹوں کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی جیسے بڑے اور گنجان آباد شہر میں جہاں لاکھوں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں روزانہ سڑکوں پر ہوتی ہیں، وہاں جرائم پیشہ افراد کے لیے واردات کرنے کے زیادہ مواقع پیدا ہو جاتے ہیں۔ اکثر وارداتیں ایسے مقامات پر ہوتی ہیں جہاں نگرانی کمزور ہوتی ہے، جیسے بازاروں کے باہر، ہسپتالوں کے قریب یا رہائشی علاقوں کی گلیوں میں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’حالیہ برسوں میں سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام سے کچھ حد تک مدد ملی ہے۔ کئی مقدمات میں کیمروں کی مدد سے ملزموں کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔‘
تاہم پولیس کے مطابق اس مسئلے پر مؤثر طور پر قابو پانے کے لیے بین الصوبائی سطح پر بہتر تعاون بھی ضروری ہے کیونکہ چوری شدہ گاڑیاں اکثر صوبائی حدود سے باہر منتقل کر دی جاتی ہیں۔
صدر میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ایک طرف بچوں کی حاضر دماغی کی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تو دوسری طرف یہ شہر میں گاڑیوں کی چوری کے مسئلے کی سنگینی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق اگر بچوں نے نمائش چورنگی کے قریب حاضر دماغی کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا اور پولیس اہل کار کو اپنی جانب متوجہ نہ کیا ہوتا تو ممکن تھا کہ ملزم گاڑی لے کر شہر سے باہر فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے۔
 

شیئر: