ایران کی جیل پر اسرائیلی فضائی حملہ جنگی جرم تھا: اقوام متحدہ
رپورٹ کے مطابق جیل پر حملے میں ایک بچے اور آٹھ خواتین سمیت تقریباً 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ نے پیر کو کہا کہ گذشتہ سال ایران کی ایک جیل پر کیا گیا اسرائیلی فضائی حملہ جنگی جرم تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ جون میں ایران کے ساتھ فضائی جھڑپوں کے دوران اسرائیل نے تہران کی ایوین جیل پر حملہ کیا تھا جس میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ جیل سیاسی قیدیوں کو رکھنے کے حوالے سے مشہور ہے۔ حالیہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں بھی اس جیل کو نقصان پہنچا ہے جس سے وہاں موجود قیدیوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، جن میں ایک برطانوی جوڑا بھی شامل ہے۔
ایران کے بارے میں آزاد بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ مشن کی سربراہ سارہ حسین نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ ’ہمیں معقول بنیادیں ملی ہیں کہ ایوین جیل پر فضائی حملہ کرتے ہوئے اسرائیل نے ایک شہری مقام کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا، جو کہ جنگی جرم ہے۔‘
ان کے مطابق اس حملے میں ایک بچے اور آٹھ خواتین سمیت تقریباً 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
متاثرین اور عینی شاہدین کے انٹرویوز، سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر دستاویزات کی بنیاد پر تیار کی گئی تازہ رپورٹ پیر کو کونسل میں پیش کی گئی۔
اسرائیل نے اس کونسل سے علیحدگی اختیار کر رکھی ہے، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دستاویزات تیار کرتی اور تحقیقات کرتی ہے، اور اس اجلاس میں اس کی نشست خالی رہی۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر، وزارت خارجہ یا فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سارہ حسین نے ایران میں بڑھتی ہوئی شہری ہلاکتوں کی مذمت کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ بمباری ایران کو اندرونی اختلافِ رائے کے خلاف مزید سخت اقدامات کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال کے حملوں کے بعد پھانسیوں میں اضافے کی طرف بھی اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہماری تحقیقات سے حاصل ہونے والا بنیادی سبق واضح ہے کہ بیرونی فوجی کارروائی احتساب یا حقیقی تبدیلی نہیں لاتی بلکہ اس سے اندرونی جبر مزید بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔‘
