حزب اللہ کے خلاف ’محدود زمینی کارروائیاں‘ شروع کر دی ہیں: اسرائیل
حزب اللہ کے خلاف ’محدود زمینی کارروائیاں‘ شروع کر دی ہیں: اسرائیل
پیر 16 مارچ 2026 19:06
اسرائیلی فوج کے مطابق ’گذشتہ چند دنوں میں فوجی دستوں نے حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں کے خلاف محدود زمینی کارروائیاں شروع کی ہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیلی فوج نے پیر کو اعلان کیا کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ’محدود زمینی کارروائیاں‘شروع کر دی ہیں، جبکہ وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا ہے کہ بے گھر ہونے والے افراد اس وقت تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکیں گے جب تک شمالی اسرائیل کو مکمل طور پر محفوظ نہ بنا دیا جائے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لبنان دو مارچ کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں اس وقت شامل ہوا جب ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردِعمل میں اسرائیل پر حملہ کیا۔
اس کے جواب میں اسرائیل نے اپنے شمالی پڑوسی لبنان پر فضائی حملے کیے اور سرحدی علاقوں میں فوجی دستے داخل کر دیے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ’گذشتہ چند دنوں میں اسرائیلی دفاعی افواج کی 91ویں ڈویژن کے دستوں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں کے خلاف محدود اور ہدف کے حساب سے زمینی کارروائیاں شروع کی ہیں، جن کا مقصد اگلے دفاعی علاقے کو مضبوط بنانا ہے۔‘
بیان کے مطابق یہ کارروائی وسیع تر دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت دہشت گردی کے ڈھانچے کو ختم کرنا اور علاقے میں سرگرم جنگجوؤں کو نشانہ بنانا شامل ہے، تاکہ خطرات کو ختم کر کے شمالی اسرائیل کے شہریوں کے لیے اضافی حفاظتی حصار قائم کیا جا سکے۔
فوج نے مزید بتایا کہ زمینی دستوں کے داخل ہونے سے پہلے اسرائیلی توپ خانے اور فضائیہ نے اہداف پر حملے کیے۔
یہ اعلان ان بیانات سے مشابہ ہے جو سنہ 2024 میں اس وقت جاری کیے گئے تھے جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں بڑی جنگ ہوئی تھی، اور سنہ 2023 میں بھی جب اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد زمینی کارروائی شروع کی تھی۔
صحافیوں کو علیحدہ بریفنگ دیتے ہوئے اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نداو شوشانی نے کہا کہ حزب اللہ نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے نشاندہی کی ہے کہ حزب اللہ اپنی کارروائیاں وسیع کرنا چاہتی ہے اور روزانہ سینکڑوں راکٹ اسرائیل کی طرف فائر کر رہی ہے۔‘
ان کے مطابق حزب اللہ نے اپنی ایلیٹ فورس رضوان یونٹ کے سینکڑوں جنگجو بھی جنوبی لبنان بھیجے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ زمینی دستوں کے داخل ہونے سے پہلے اسرائیلی توپ خانے اور فضائیہ نے اہداف پر حملے کیے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
نئی جگہوں پر کارروائیاں
نداو شوشانی نے کہا کہ زمینی کارروائیاں محدود ہیں اور ان مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں سے حزب اللہ اسرائیلی شہریوں کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ نئی جگہیں ہیں جہاں ہماری فوج کل تک سرگرم نہیں تھی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج مخصوص مقامات پر ہدف کے حساب سے زمینی کارروائیاں جاری رکھے گی اور ’جتنی ضرورت پڑی اتنی دیر تک کارروائی کرے گی۔‘
گزشتہ دنوں حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنان کی سرحد پر اسرائیلی فوج کو نشانہ بنایا ہے، جن میں خیام میں براہِ راست جھڑپیں بھی شامل ہیں۔
یہ قصبہ اسرائیلی شہر میٹولا کے مقابل سرحد پار واقع ہے اور جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیلی فوج کی پیش قدمی کا پہلا مقام تھا۔
سنیچر سے حزب اللہ بار بار اعلان کر رہی ہے کہ اس نے خیام کے اندر مختلف مقامات پر اسرائیلی فوج اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
شمالی اسرائیل سے انخلا نہیں
وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے پیر کو کہا کہ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والے لاکھوں لبنانی اس وقت تک ’دریائے لیتانی کے جنوب میں اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکیں گے جب تک شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی جاتی۔‘
لیفٹیننٹ کرنل نداو شوشانی نے کہا کہ ’یہ نئی جگہیں ہیں جہاں ہماری فوج کل تک سرگرم نہیں تھی۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیلی فوج بارہا کہہ چکی ہے کہ وہ شمالی اسرائیل سے شہریوں کو انخلا نہیں کرائے گی جیسا کہ اس نے سنہ 2024 کی جنگ کے دوران کیا تھا۔
اس تنازع کے دوران اسرائیل نے شمالی علاقوں سے دسیوں ہزار رہائشیوں کو نکال لیا تھا اور نومبر 2024 میں جنگ بندی ہونے تک انہیں واپس نہیں آنے دیا گیا تھا۔
لبنانی حکام کے مطابق اتوار تک اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 850 تک پہنچ چکی ہے جبکہ آٹھ لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔