اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایک مرتبہ پھر تیندوے کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی ہے جس کے بعد طلبہ اور عملے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
اس صورتحال کے بعد آج یونیورسٹی انتظامیہ، وائلڈ لائف بورڈ اور سی ڈی اے حکام کے درمیان ایک رابطہ اجلاس ہوا جس میں سی ڈی اے سے تعاون طلب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے بعض علاقوں میں تیندوے کے ممکنہ چھپنے کے مقامات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان دنوں اسلامی یونیورسٹی میں آن لائن کلاسز جاری ہیں تاہم طلبہ کی ایک بڑی تعداد ہاسٹلز میں موجود ہے۔
مزید پڑھیں
-
اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں نظر آنے والا تیندوا کہاں گیا؟Node ID: 899107
واضح رہے کہ اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی دارالحکومت کے سیکٹر ایچ ٹین فور میں کنالوں پر محیط رقبے پر قائم ہے۔ اس کا زیادہ تر علاقہ چار دیواری سے محفوظ ہے تاہم کچھ مقامات ایسے بھی ہیں جہاں سے چیتا یونیورسٹی کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے۔
گزشتہ سال دسمبر میں پہلی بار اسلامی یونیورسٹی کے احاطے میں چیتا دیکھے جانے کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو آگاہ کیا تھا۔
اس کے بعد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی ٹیمیں یونیورسٹی پہنچی تھیں اور صورتحال کا جائزہ لیا گیا تھا۔وائلڈ لائف بورڈ کی جانب سے تیندوے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے وہاں کیمروں کے ساتھ ساتھ جال بھی نصب کیے گئے تھے۔
تاہم اب تک ان جالوں میں چیتا نہیں پھنس سکا، البتہ کیمروں میں اس کی وہاں آمد و رفت ریکارڈ ہوئی ہے، وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے اب تک کی نگرانی میں یہ معلوم کیا ہے کہ چیتا ٹریپس کے قریب آتا ہے لیکن ان میں داخل نہیں ہوتا۔

اردو نیوز نے واقعے کی مزید تفصیلات کے لیے اسلامی یونیورسٹی کے ایک طالب علم، عمر دراز (فرضی نام)، سے رابطہ کیا۔ انہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے کچھ دوست گزشتہ روز افطار کے بعد یونیورسٹی سے باہر جا رہے تھے تو راستے میں گرلز ہاسٹل کے قریب انہیں چیتا نظر آیا۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ چیتا ایک سے دو منٹ تک اسی جگہ موجود رہا اور پھر وہاں سے چلا گیا۔
اس وقت اسلام آباد کی اسلامی یونیورسٹی میں چیتا نظر آنے کی ویڈیوز طلبہ اور سوشل میڈیا پر بھی وسیع پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں اور طلبہ کی جانب سے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اردو نیوز نے اسلامی یونیورسٹی کی ترجمان ڈاکٹر اسماء منظور سے بھی رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تیندوے کی موجودگی کے معاملے پر آج یونیورسٹی انتظامیہ، سی ڈی اے اور وائلڈ لائف بورڈ کے حکام کے درمیان ایک رابطہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تیندوے کی محفوظ گرفت کے لیے مزید اقدامات پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران سی ڈی اے سے بھی مدد طلب کی گئی تاکہ بعض علاقوں میں گھاس و جڑی بوٹی کی کثافت کم کی جا سکے اور تیندوے کے ممکنہ چھپنے کے مقامات محدود کیے جا سکیں، جبکہ تمام اقدامات ماحولیاتی اور وائلڈ لائف قوانین کے مطابق ہوں۔
بورڈ کو بھی اسلامک یونیورسٹی میں تیندوے کی صورتحال کے حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔ترجمان
اس معاملے کے جائزے اور نگرانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ترجمان
وائلڈ لائف ماہرین کی رائے کی روشنی میں ٹریپس نصب کیے گئے ہیں۔ترجمان pic.twitter.com/CaPWtJM6Xb
— Islamabad Wildlife Management Board (IWMB) (@WildlifeBoard) March 15, 2026











