ایک مصباح، تین کام، کیسے چلے گا اب یہ نظام؟

مصباح الحق ایک سیریز کی خراب کارکردگی کے بعد جھنجھلائے ہوئے اور پریشان دکھائی دیے۔ فوٹو: اے ایف پی
کسی چلتی ہوئی اور منافع بخش کمپنی جس نے گذشتہ دو، تین سال سے بہترین کارکردگی دکھائی ہو اور آپ اس کے مینجر کو نہ صرف تبدیل کریں بلکہ نئے مینجر کو تین عہدے دیدیں تو اس کمپنی کا وہی حاصل ہوگا جو سری لنکا نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے خلاف کیا۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ہونے والی ون ڈے سیریز اور ٹی 20 سیریز پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے بڑا قدم اور مستقبل کے لیے اہم ثابت ہوگی لیکن ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے کچھ تاخیر لیکن پھر جو تبدیلیاں کیں اس پر سب سے محتاط تبصرہ کیا بھی جائے تو وہ یہی ہوگا کہ ’مسڑ کول‘ اورمشکل وقت میں پاکستان کرکٹ کی نیا پار لگانے والے مرد بحران مصباح الحق پر شاید وقت اور تجربے سے قبل ہی اتنی زیادہ توقعات اور بوجھ لاد دیا گیا کہ اپنی پوری کپتانی میں میڈیا کے سوالات کا ٹھنڈے دماغ اور اپنی کارکردگی سے جواب دینے والے مصباح الحق ایک سیریز کی خراب کارکردگی کے بعد جھنجھلائے ہوئے اور پریشان دکھائی دیے۔
صرف ایک ٹی 20 سیریز کی شکست پر کسی بھی ہیڈ کوچ یا چیف سلیکٹر یا بیٹنگ کوچ کے مستقبل کا تعین کرنا زیادتی ہوگی لیکن اگر ایک ہی شخص  کو تین اہم عہدے دیے جائیں اور گذشتہ دو سال سے ٹی 20 رینکنگ کی نمبرون ٹیم ہوم گراؤنڈ پر بی کلاس ٹیم سے تین صفر سے شکست کھاجائے تو کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ ایک شخص کو تین اہم عہدے دینے کا فیصلہ جہاں پاکستان کرکٹ بلکہ خود مصباح الحق کے ساتھ بھی زیادتی ہے جس کا اندازہ شاید خود مصباح اور کرکٹ بورڈ کو بھی جلد یا کچھ دیر میں ہوجائے گا۔

کیا پاکستانی ٹیم کی ٹی 20  سیریز ہارنے کی ذمہ داری مصباح الحق پر ڈالی جا سکتی ہے؟ فوٹو: اے ایف پی

مصباح الحق کی مدد اورمعاونت کے لیے سلیکشن کمیٹی کے کورآڈینیٹر کی تلاش تو اشتہار دیکر شروع کردی گئی ہے لیکن تین فارمیٹس میں ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کے بھاری بھر کم عہدوں کے لیے کپتان سمیت چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کے درمیان کھلاڑیوں کی سلیکشن اور ٹیم کمبی نیشن پر جس بحث اور اختلاف رائے اور اس کے نتیجے میں بننے والی ٹیم کی ضرورت ہے وہ اکیلے مصباح کیسے بنا پائیں گے؟
کیا مصباح الحق بحیثیت چیف سلیکٹر اور پھر ہیڈ کوچ خود کلامی کرکے پاکستان کے تینوں سکواڈز ترتیب دیں گے؟
بین الاقوامی دورے کے بعد جب تمام توجہ ٹیم کمبینیشن اور کھلاڑیوں کو انفرادی طور پر وقت دینے کا ہوگا تو مصباح الحق بیٹنگ کوچ بن کر کھلاڑیوں کی رہنمائی کریں گے یا ہیڈکوچ بن کر پوری ٹیم اور ٹور کا پلان تیار کریں گے؟
یا پھر مصباح الحق چیف سلیکٹر بن کر اگلی سیریز کے لیے پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ میں ٹیلنٹ تلاش کریں گے؟
کہیں ایسا تو نہیں پاکستان کرکٹ جس کو ایک فل ٹائم ہیڈ کوچ، فل ٹائم چیف سلیکٹر اور فل ٹائم بیٹنگ کوچ کی ضرورت ہے اسے تھری ان ون کے چکر میں پارٹ ٹائم ہیڈ کوچ، پارٹ ٹائم چیف سلیکٹراور پارٹ ٹائم بیٹنگ کوچ بھی میسر نہ ہوں۔
جس وقت فخرزمان یا امام الحق کو مصباح الحق بطور بیٹنگ کوچ چاہیے تو مصباح الحق ہیڈ کوچ بن کر کپتان سرفراز احمد اور نائب کپتان بابر اعظم کے ساتھ مصروف ہوں۔
اور جب پاکستان کے ڈومیسٹک پرفارمر کو مصباح بطور چیف سلیکٹر اور ان  کی نظر کرم کی ضرورت ہو اس وقت ہیڈ کوچ مصباح اور بیٹنگ کوچ مصباح بین الاقوامی دورے میں ٹیم کے ساتھ مصروف ہوں۔

پاکستان کرکٹ کو آگے لے جانا ہے تو ون مین شو کے بجائے پی سی بی کو ایک سسٹم بنانا ہوگا۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کرکٹ کو آگے لیجانا ہے تو ون مین شو کے بجائے پی سی بی کو ایک ایسا سسٹم بنانا ہوگا جو پاکستان ٹیم اور ڈومیسٹک ٹیم کے کرکٹرز کو ایسا نظام مہیا کرے جہاں مصباح الحق بطور مینجر ایسے ذمہ داروں کا تعین اور ان کی خدمات حاصل کرسکیں جو ان کی غیر موجودگی میں کام کرسکیں۔
اہم کھلاڑیوں کے بغیر پاکستان کا دورہ کرنے والی سری لنکن کرکٹ ٹیم پاکستان کرکٹ کو بہت کچھ سکھا کر گئی ہے۔ مخالف ٹیم کی کمزوریوں اور اپنی طاقت کا صحیح اندازہ لگا کر میدان میں مکمل فوکس اور ڈسپلن کے ساتھ جس مثبت اپروچ سے سری لنکا نے ٹی 20 سیریز میں بیٹنگ اور بولنگ کی اس کا پاکستان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز ہارنے والی پاکستان ٹیم سب سے مشکل دورہ سمجھنے جانے والے دورہ آسٹریلیا  میں تین ٹی 20 میچز اور دو ٹیسٹ میچز میں آخر کیا ایسا کرے کہ نہ صرف ٹیم کا اعتماد بحال ہو بلکہ ساتھ ہی مستقبل خصوصاً ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تیاری ہوسکے۔
دورہ آسٹریلیا کے تین ٹی 20 اور آئندہ سال آسٹریلیا میں ہونے والے ورلڈ ٹی 20 سے قبل 13 نومبر سےشروع ہونے والا ڈومیسٹک ٹی 20 ٹورنامنٹ نئے کھلاڑیوں کی ٹیم میں شمولیت کا باعث ہونا چاہیے۔
آئندہ سال آسٹریلیا میں ہونیوالے ورلڈ ٹی20 کی ضروریات کے پیش نظر پاکستان ٹیم کو ایسے میڈیم پیس آل رؤنڈر کی ضرورت ہے جو نہ صرف آسٹریلیا کی پچز کے پیش نظر فاسٹ بولرز کا پارٹنر بن سکے بلکہ ساتھ ہی پاور ہٹنگ کے کام بھی آسکے اور اس حوالے سے عامر یامین، بلاول بھٹی، عماد بٹ کو آزمایا جاسکتا ہے۔
کھیل کی خبریں واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ”اردو نیوز سپورٹس“ گروپ جوائن کریں

شیئر: