ٹی20 میں سری لنکا کا کلین سویپ

اوپنر فخر زمان اننگز کی پہلی گیند پر ہی پویلین لوٹ گئے، فوٹو: اے ایف پی

پاکستانی بیٹنگ

رینکنگ میں آٹھویں نمبر کی ٹیم سری لنکا نے آخری ٹی20 میچ میں رینکنگ میں پہلے نمبر کی ٹیم پاکستان کو 13 رنز سے ہرا کر سیریز کلین سویپ کر لی۔ قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ میں پاکستانی ٹیم 148 رنز کے تعاقب میں مقررہ 20 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 134 رنز ہی بنا سکی۔
سری لنکا کی جانب سے ڈی سلوا نے تین، کمارا نے دو جبکہ راجیتھا نے ایک وکٹ حاصل کی۔
میزبان ٹیم کی جانب سے ایک بار پھر فخر زمان اور بابر اعظم نے اننگز کا آغاز کیا۔ فخر زمان ایک بار پھر ٹیم کو اچھا آغاز دینے میں ناکام رہے اور بغیر کوئی رن بنائے میچ کی پہلی ہی بال پر آؤٹ ہو گئے، انہیں راجیتھا نے بولڈ کیا۔

ڈی سلوا نے تین، کمارا نے دو جبکہ راجیتھا نے ایک وکٹ حاصل کی، فوٹو: پی سی بی

بابر اعظم 76 کے مجموعی سکور پر 27 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ کمارا کی بال پر وکٹ کیپر سماراوکرما نے ان کا کیچ لیا۔ آؤٹ ہونے والے تیسرے کھلاڑی حارث سہیل تھے جنہوں نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 52 رنز بنائے۔
حارث سہیل کا ڈی سلوا کی گیند پر وکٹ کیپر سماراوکرما نے کیچ لیا۔ اس وقت پاکستان کا مجموعی سکور 94 تھا۔ پاکستان کے مجموعی سکور 103 پر چوتھی وکٹ گری جب عماد وسیم صرف تین رنز بنا کر کمارا کی بال پر ڈی سلوا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔
پاکستان کے آؤٹ ہونے والے پانچویں کھلاڑی آصف علی تھے جو ایک رن بنا کر ڈی سلوا کی گیند پر گونا تھیلاکا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ پاکستان کی چھٹی وکٹ 111 رنز پر گری جب کپتان 17 رنز بنانے کے بعد ڈی سلوا کی بال پر بولڈ ہو گئے۔
افتخار احمد 17 اور وہاب ریاض 12 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

پاکستان کی جانب سے محمد عامر نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، فوٹو: پی سی بی

سری لنکا کی بیٹنگ

اس سے قبل سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصاں پر 147 رنز بنائے اور پاکستان کو جیت کے لیے 148 رنز کا ہدف دیا۔  سری لنکا کی جانب سے فرنینڈو نے ناقابل شکست رہتے ہوئے سب سے زیادہ 78 رنز بنائے۔
سری لنکا کی پہلی وکٹ 24 رنز پراس وقت گری جب گونا تھیلاکا محمد عامر کی گیند پر بولڈ ہوئے۔
مہمان ٹیم کو دوسرا نقصان سماراوکرما کی صورت میں اٹھانا پڑا۔ سماراوکرما کو عماد وسیم نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔
سری لنکا کی تیسری وکٹ 30 رنز پر اس وقت گری جب محمد عامر نے راجا پاکسا کو آؤٹ کیا۔ مہمان ٹیم کا چوتھا کھلاڑی 58 رنز پر آؤٹ ہوا۔

حارث سہیل نے اپنی شمولیت کو درست ثابت کرتے ہوئے 52 رنز بنائے، فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کی جانب سے محمد عامر نے تین جبکہ عماد وسیم اور وہاب ریاض نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
سیریز ہارنے کے بعد پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ ٹیم کو فیلڈنگ میں بہت محنت کی ضرورت ہے، ایسی فیلڈنگ سے ہم میچ نہیں جیت سکتے۔
میچ کے اختتام پر سری لنکن کھلاڑیوں نے گراؤنڈ کا چکر لگایا اور تماشائیوں کا شکریہ ادا کیا۔
میچ کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سری لنکن کپتان داسون شناکا نے کہا کہ پاکستان میں سکیورٹی کے حوالے سے کھلاڑیوں کے جو خدشات تھے وہ دور ہو گئے ہیں، اب وہ دیگر کھلاڑیوں کو بھی ٹیسٹ سیریز کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

میچ کے دوران تماشائیوں میں 750 پنک شرٹس تقسیم کی گئیں، فوٹو: پی سی بی

میچ پنک ربن مہم سے منسوب
اس میچ کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اسے ’پنک ربن مہم‘ سے منسوب کیا گیا تھا۔ چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے تاریخ میں پہلی بار قذافی سٹیڈیم کو گلابی رنگ میں رنگ دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اکتوبر کا مہینہ دنیا بھر میں چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
پنک ربن کے حوالے سے میچ سے قبل سٹیڈیم میں ایک تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا جس کے مہمان خصوصی صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی تھے۔
اس موقع پر صدر عارف علوی نے پاکستانی اور سری لنکن ٹیم کے کپتانوں کو پنک ربن پہنائے۔ اس میچ میں شریک دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اور آفیشلز بھی پنک ربن پہنے۔

ناقص کارکردگی پر عمر اکمل اور احمد شہزاد شدید تنقید کی زد میں ہیں، فوٹو: اے ایف پی

اس کے علاوہ قذافی سٹیڈیم میں میچ دیکھنے والے 12 ہزار شائقین میں پنک ربن اور مختلف سٹینڈز میں ٹیموں کی حوصلہ افزائی کرنے والے 750 تماشائیوں میں پنک شرٹس تقسیم کی گئیں۔
آخری ٹی20 میچ میں تمام سپانسرز نے بھی اپنے اپنے برینڈز کو گلابی رنگ میں بدل دیا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے تماشائیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ آج کے میچ کے لیے گلابی رنگ کا لباس پہن کر آئیں۔
یاد رہے کہ دنیا میں ہر نو میں سے ایک خاتون میں چھاتی کا سرطان پایا جاتا ہے اور اگر اس کی جلد تشخیص ہو جائے تو بچنے کے امکانات 90 فیصد تک ہو جاتے ہیں۔

پاکستانی ٹیم ٹی20 میں پہلی بار 0-3 سے سیریز ہاری ہے، فوٹو: اے ایف پی

واضح رہے کہ پاکستان میں چھاتی کے سرطان کی شرح ایشیا کے دیگر تمام ممالک سے زیادہ ہے۔
واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سری لنکا نے پاکستان کو 64 رنز سے ہرایا تھا جبکہ 7 اکتوبر کو دوسرے ٹی20 میچ میں سری لنکا نے 35 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔
ٹی20 سیریز میں شکست کے بعد کرکٹ ماہرین اور تجزیہ کاروں نے چیف سلیکٹر مصباح الحق اور قومی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا، خاص طور پر عمر اکمل اور احمد شہزاد کی شمولیت پر سوال اٹھایا گیا۔
واضح رہے کہ عمر اکمل دونوں میچوں میں صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ احمد شہزاد پہلے میچ میں چار جبکہ دوسرے میچ میں 13 رنز پر آؤٹ ہوئے۔دونوں کھلاڑیوں کو ون ڈے سیریز میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

بابر اعظم بطور اوپنر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے، فوٹو: اے ایف پی

یاد رہے کہ اس سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلی گئی ایک روزہ میچز کی سیریز میں پاکستان نے سری لنکا کو 0-2 سے شکست دی تھی جبکہ سیریز کا پہلا میچ بارش کے باعث نہیں کھیلا جا سکا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستانی ٹیم ٹی 20 میں پہلی بار تین صفر سے سیریز ہاری ہے۔

مصباح الحق کی گفتگو

میچ کے بعد چیف سلیکٹر مصباح الحق نے کہا کہ وہ سیریز میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں لیکن یہ وہی ٹیم ہے چو گذشتہ چار برس سے کھیل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کھلاڑیوں سے خراب کھیل کے بارے میں پوچھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیریز ہارنے کے بعد ہمیں بہت کچھ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
مصباح الحق کا کہنا تھا کہ سینیئر کھلاڑیوں پر بلاوجہ تنقید درست نہیں۔

فرنینڈو نے تیسرے ٹی20 میں 78 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کا ٹی20 سکواڈ

پاکستان کی سری لنکا کے خلاف ٹی20 سیریز کے لیے 16 رکنی سکواڈ میں کپتان سرفراز احمد، بابر اعظم، فخر زمان، احمد شہزاد، عمر اکمل، آصف علی، فہیم اشرف، حارث سہیل، افتخار احمد، عماد وسیم، محمد عامر، محمد حسنین، محمد نواز، شاداب خان، عثمان شنواری اور وہاب ریاض شامل تھے۔

سری لنکا کا ٹی20 سکواڈ

سری لنکن سکواڈ میں کپتان داسن شانیکا، دانشکا گونا تھیلاکا، سدیرا سماراویکرما، اویشکا فرنینڈو، اوشادا فرنینڈو، شیہان جے سوریا، انگیلو پریرا، راجا پاکسا، منود بھنوکا، لاہیرو مادھوشنکا، وانیندو ہراسنگھا، لکشن سندکان، اسرو اودانا، نووان پرادیپ، کاسن راجتھا اور لاہیرو کمارا شامل تھے۔
کھیل کی خبریں واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ”اردو نیوز سپورٹس“ گروپ جوائن کریں

شیئر: