سعودیہ اور روس نیا اتحاد بنا رہے ہیں؟

پوٹین کے دورے سے دلچسپی بہت ساری باتیں بتا رہی ہے۔۔ فوٹو واس
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے دورے سے سعودی عرب کی دلچسپی بہت ساری باتیں بتا رہی ہے۔ بیرونی دنیا بھی اسے بین الاقوامی تعلقات کے دھارے میں ہونے والی متوقع تبدیلیوں کی عینک سے دیکھ رہی ہے۔
 سعودی عرب کے اخبار الشرق الاوسط میں شائع کالم میں عبدالرحمن راشد نے لکھا کہ یہ کہنا مبالغہ آمیز ہوگا کہ سعودی عرب مغربی دنیا کے ساتھ اپنے اسٹراٹیجک اور تاریخی تعلقات سے منہ موڑ رہا ہے۔ البتہ اس حوالے سے ہونے والی سیاسی تبدیلی چھپائی نہیں جاسکتی۔
سوال یہ ہے کہ کیا سعودی عرب اور روس کے درمیان نیا اتحاد تیار ہورہا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ریاض اور ماسکو کے درمیان علاقائی معاہدے طے پاگئے ہیں۔ یہ اور ان جیسے کئی اہم اور معقول سوالات خطے میں عدم استحکام ،اتحادی گروپوں میں تبدیلی اور خطے سے امریکہ کے تدریجی انخلا کے ماحول کے تناظر میں کئے جارہے ہیں۔
 دیکھا جارہا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنی نئی خارجہ پالیسی ترتیب دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ سعودی عرب یہ کام مقررہ سیاسی پروگرام کے مطابق نہیں بلکہ متعینہ موضوعات کو مدنظر رکھ کر کررہا ہے۔ 

روسی انویسٹمنٹ فنڈ کا ریاض میں پہلا دفتر دنیا کے لیے پیغام ہے۔ فوٹو واس

روسی صدر پیوٹن کے دورہ سعودی عرب کا پروگرام ایک عرصے سے طے تھا۔ یہ دورہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی کے بحران یا شام کے معاملے پر آستانہ کانفرنس کے نتائج سے ہم آہنگی کا نتیجہ نہیں۔
کئی ایسے مسائل ہیں جنہیں سعودی عرب اور روس کسی اور فریق کے مقابلے میں زیادہ بہتر شکل میں نمٹا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر دونوں ملک تیل مارکیٹ کے نرخوں اور پیداوارکودیگر فریقوں کے مقابلے میں زیادہ بہترشکل میں منظم کرسکتے ہیں۔روس اور سعودی عرب کا مشترکہ اثر و نفوذ بڑا موثر ہے۔ فریقین تیل پیداوار اور تیل کے نرخوں پر مشترکہ فیصلے لے سکتے ہیں۔ تیل کے نرخوں کی جنگ سے عالمی مارکیٹ کو بچا سکتے ہیں۔
روس نے مشرق وسطیٰ میں موثر کھلاڑی کا کردارادا کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ سعودی عرب اور روس کے درمیان افہام و تفہیم کے باعث مملکت کے خلاف سیاسی گٹھ جوڑ نہیں بن سکا۔
میرا خیال ہے کہ یہ کام سفارتی سطح پر بیحد مشکل تھا اور ہے۔ آج ہم دونوں ملکوں کے در میان افہام و تفہیم کے خوشگوار نتائج کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ روس کی بابت یہ بات معروف ہے کہ وہ امریکہ کے ہر فیصلے کے مخالف موقف اپنائے ہوئے ہے تاہم یمن، سوڈان، لیبیا اور عراق جیسے امور پر روس، امریکہ سے ہم آہنگ پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔
شام کے سلسلے میں سعودی عرب اور روس کا موقف مختلف ہے۔ اس کا باعث کیا ہے؟
شام کے زمینی حقائق اپنے آپ کو منوا رہے ہیں۔ یہ وہی منظر نامہ ہے جو 8 برس قبل قائم تھا۔ اس وقت بھی شامی بحران نے خود کو اپنے انداز سے منوایا تھا۔ جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے تو وہ زمینی حقائق سے یکسر مختلف کوئی موقف کبھی نہیں اختیار کرے گا۔ زمینی حقائق سے بالا ہوکر کوئی سر نہیں بجائے گا۔
شام کے سرحدی ممالک اردن، عراق اور ترکی کو شام سے دلچسپی سعودی عرب سے کہیں زیادہ ہے۔ ان ممالک نے زمینی حقائق کے تناظر میں اپنی پوزیشنیں بنا رکھی ہیں۔ شام کی سرحدیں سب سے زیادہ ترکی سے ملتی ہیں۔ شام کے موجودہ حالات ترکی کے کھیل کا نتیجہ ہیں۔ ترکی نے روس اور ایران کے ساتھ مذاکرات کرکے نئی صورتحال کو قبول کیا ہے۔ اب3 مسائل ترکی کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ 30 لاکھ شامی پناہ گزینوں سے نجات حاصل کرنا ،اپنی سرحدوں کے قریب مسلح کردوں کو جمع ہونے سے روکنا اور تیل سے مالا مال شامی علاقوں پر قبضہ جمانا ہے۔

 روسی صدر نے مشرق وسطیٰ کے بحرانوں سے نمٹنے میں فراست کا مظاہرہ کیا ہے۔ فوٹو واس

سعودی عرب، روس کے ساتھ اپنے خوشگوار تعلقات سے مطمئن ہے۔ سعودی عرب چاہتاہے کہ روس، ایران کو شام پر ناجائز قبضہ جمانے سے روکے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ مملکت کی پالیسی شام کو ایران کے تسلط سے نجات دلانے، حزب اللہ کے جنگجوﺅں کا اثر و نفوذ کم کرنے اور ترکوں کو شام کے اسٹراٹیجک مقامات اور تیل کے ذخائر پر ناجائز قبضے سے روکنے کی ہے۔ہمارا خیال ہے کہ روس امریکہ کے سکڑتے ہوئے کردار کے تناظر میں اس حوالے سے اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
 ایک سوال ایران کے ساتھ روس کے بہترین تعلقات کے حوالے سے بھی اٹھ رہا ہے۔ اس کی کیا کہانی ہے؟
 سعودی عرب چاہتا ہے کہ اس سلسلے میںروس کے ساتھ اپنے تعلقات سے فائدہ اٹھائے۔ وجہ ظاہر ہے کہ ایران بیک وقت روس اور امریکہ کو اپنا دشمن نہیں بنا سکتا۔ یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ روسی ، ایرانیوں کے ساتھ بہترین تعلق بنائے ہوئے ہیں تاہم روسی تمام مسائل کے سلسلے میں ایران کے ساتھ بہترین تعلقات بنانے کے بھی قائل نہیں۔
ایران تاریخی پس منظر کے حوالے سے روس سے خائف ہے۔ ہمیشہ یہ بات دہراتا رہتا ہے کہ قیصر کے زمانے سے روس ایران پر حریصانہ نظر رکھے ہوئے ہے۔ علاوہ ازیں دونوں ملکو ںکے درمیان جغرافیائی ، سمندری اور تیل جیسے امور پر اختلافات موجود ہیں۔ دونوں ملک انہیں ابھارنے سے گریز کررہے ہیں۔
سچ بات یہ ہے کہ روسی صدر پوٹین نے مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے بحرانوں سے نمٹنے کے سلسلے میں بڑی فراست کا مظاہرہ کیا ہے۔ 
صدر پیوٹن نے روسی انویسٹمنٹ فنڈ کا پہلا دفتر بیرون ملک کھولنے کے لیے ریاض کا انتخاب کرکے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت کی حیثیت ایک دورے تک محدود نہیں۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: